نئی دہلی:(ایجنسی)
فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ چلانے والے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دہلی پولیس کو محمد زبیر کے بینک اکاؤنٹ میں گزشتہ کچھ ماہ میں 50 لاکھ روپئے آنے کی بات سامنے آئی ہے، حالانکہ یہ رقم کہاں سے آئی اور کس نے بھیجی، اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے منگل کے روز آلٹ نیوز کے صحافی محمد زبیر کو چار دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔
نیوز18کی خبر کے مطابق دہلی پولیس نے منگل کو بتایا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ گزشتہ تین ماہ میں آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے بینک اکاؤنٹ میں 50 لاکھ روپے آئے تھے۔ پولیس موصول رقم کے ذرائع کی جانچ کر رہی ہے اور آج (بدھ) کو انہیں بنگلورو لے جایا جاسکتا ہے۔
حالانکہ آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے منگل کو ان میڈیا رپورٹوں کو خارج کردیا، جن میں کہا گیا تھا کہ محمد زبیر کے اکاؤنٹ میں گزشتہ تین ماہ میں 50 لاکھ روپئے آئے تھے۔ پرتیک سنہا نے ٹوئٹر پر خبر کو شیئر کرتے ہوئے کہا، ’فیکٹ چیکنگ: بالکل جھوٹ! پولیس آلٹ نیوز کے ذریعہ حاصل ڈونیشن کو محمد زبیر سے جوڑ رہی ہے۔ آلٹ نیوز کو حاصل ہونے والا سارا پیسہ تنظیم کے بینک اکاؤنٹ میں جاتا ہے، کسی شخص کو نہیں۔ محمدزبیر کے پرسنل اکاؤنٹ کا بینک اسٹیٹمنٹ جس کی ایک کاپی میرے پاس ہے، اس جھوٹ کو خارج کرتا ہے۔
دہلی پولیس نے محمد زبیر کو دشمنی کو بڑھاوا دینے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں پیر کی شام کو گرفتار کیا تھا۔ محمد زبیر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153/295اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ محمد زبیر کو سال 2018 کے مبینہ طورپر ایک قابل اعتراض ٹوئٹ کے سبب گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد زبیر پر نفرت پھیلانے کے ارادے سے جذباتی بیان دینے اور مذہبی جذبات کی توہین کرنے یا کرنے کی کوشش کرنے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 295اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو سال 2018 میں پوسٹ کی گئی جس تصویر کے لئے گرفتار کیا گیا ہے، وہ 1983 کی فلم ‘کسی سے نہ کہنا‘ سے لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزام کے برعکس محمد زبیر نے تصویر سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے۔









