اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کو ختم ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال شامیر نے فوج کو چوکنا رہنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف مہم ختم نہیں ہوئی اور فوج کو کئی جگہوں پر طویل جنگ کے لیے پوری طرح تیار رہنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے حالیہ حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا ہے لیکن خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
جنرل شامیر نے کہا کہ "ہم نے ایران کے خلاف ایک اہم مرحلہ مکمل کر لیا ہے، لیکن یہ جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایران اور اس کے اتحادی گروپوں جیسے حزب اللہ، شامی ملیشیا اور یمن کے حوثی باغیوں کی نگرانی کی جائے گ ٹائمز آف اسرائیلTimes of israel کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ کی پٹی میں حماس کی حکمرانی کا خاتمہ بھی فوج کی ترجیحات میں شامل ہے۔ شامیر نے کہا، غزہ کی جنگ اسرائیل کے لیے اب تک کی سب سے مشکل جنگوں میں سے ایک ہے۔ اس میں فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کئی فوجی مارے گئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کو ہر محاذ پر چوکنا رہنا ہوگا، فضائیہ کی طاقت کو برقرار رکھنا ہوگا اور انٹیلی جنس تحقیقات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ آنے والے سال 2026 میں فوج اپنی تیاریوں کو مزید مضبوط کرے گی تاکہ وہ کسی بھی قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہو ۔یہ اسرائیل کی سنک ہے واضح رہے کہ اسرائیل نے جون 2025 میں آپریشن "رائزنگ لائن” کے ایک حصے کے طور پر ایران کے جوہری اور فوجی مقامات پر کئی فضائی حملے کیے، جس کا مقصد اس کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو روکنا تھا۔ اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ اس سے ایران کے ہتھیاروں کے پروگرام پر بڑا اثر پڑا ہے لیکن یہ خطرہ ٹل نہیں سکا








