نئی دہلی:مرکزی حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد بلاک کرنے کے اختیار کو مزید وسعت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، حکومت انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69اےکے تحت داخلہ، خارجہ، دفاع اور اطلاعات و نشریات کی وزارتوں سمیت کئی وزارتوں کو براہ راست مواد بلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔فی الحال یہ اختیار صرف آئی ٹی وزارت کے پاس ہے۔ مجوزہ تبدیلی نافذ ہونے کے بعد انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو مختلف سرکاری وزارتوں اور ایجنسیوں کی طرف سے براہ راست بلاکنگ کے احکامات مل سکتے ہیں۔سومیندر بارک کی رپورٹ کے مطابق، اس تبدیلی پر حکومت مختلف وزارتوں اور دیگر فریقین کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ دو سینئر افسران کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار کردہ گمراہ کن مواد کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے پیش نظر یہ قدم ضروری سمجھا جا رہا
ممکنہ ترمیم کے تحت سیبی (انڈین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ) جیسے ریگولیٹری اداروں کو بھی ٹیک کمپنیوں کو براہ راست مواد ہٹانے کی ہدایات دینے کا اختیار مل سکتا ہے
اس وقت ہندوستان میں مواد بلاک کرنے کے لیے دو متوازی نظام موجود ہیں۔ پہلا، آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اےکے تحت، جس میں قومی سلامتی، عوامی نظم و نسق یا خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے مواد کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس عمل میں حتمی منظوری آئی ٹی وزارت ہی دیتی ہے دیتی ہے دوسرا نظام آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79(3)(بی) کے تحت کام کرتا ہے، جس کے ذریعے مختلف وزارتوں کو براہ راست آن لائن پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کے احکامات دینے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ عمل عموماً وزارت داخلہ کی قیادت میں چلنے والے’ سہیوگ ‘ پورٹل کے ذریعے انجام دیا جات یے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دونوں نظاموں میں ہم آہنگی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسے’سہیوگ‘ پورٹل کے ذریعے مرکزی اور ریاستی سطح کی ایجنسیاں براہ راست احکامات بھیج سکتی ہیں، ویسے ہی دفعہ 69اےکے عمل کو بھی ڈی سینٹرلائزڈبنانے پر غور کیا جارہا ہے
ثالیہ برسوں میں مرکزی حکومت نے دفعہ 69اےکا استعمال کرتے ہوئے ثمغور طلب ہے کہ سوشل میڈیا پر کئی ایسی پوسٹ کو بلاک کیا ہے، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پالیسیوں پر تنقید یا طنز کیا گیا تھا
آظی ٹی وزارتِ سے اس حوالے سے سوال پوچھے گئے تھے، تاہم خبر لکھے جانے تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے











