نئی دہلی :(ایجنسی)
اے آئی ایم آئی ایم نے بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے خلاف پیغمبر اسلام محمدؐ کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے پر محاذ کھول دیا ہے۔ AIMIM دہلی کے کارکنوں نے جمعرات کو جنتر منتر پر مظاہرہ کیا اور نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس نے بڑی تعداد میں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق نوپور شرما اور نوین جندل کے تبصروں پر اسلامی ممالک نے بھی شدید احتجاج درج کرایا ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کی کئی سیاسی جماعتوں نے بھی نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
اے ایم یو میں مظاہرہ
دوسری جانب علی گڑھ میں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے نوپور شرما کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا ہے۔ طلباء نے نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوپور شرما کو 48 گھنٹے کے اندر گرفتار کیا جائے ورنہ اس کے بعد وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔ نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کانپور میں فرقہ وارانہ تصادم ہو چکا ہے اور اس معاملے میں پولیس کی جانب سے مسلسل گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

دوسری طرف دہلی پولیس نے دو ایف آئی آر درج کی ہیں۔ ان ایف آئی آر میں نوپور شرما، نوین کمار جندل سے لے کر حیدرآباد کے ایم پی اسد الدین اویسی، صحافی صبا نقوی اور کچھ سوشل میڈیا صارفین کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ دہلی پولیس کی ایک ٹیم نے ان لوگوں کی سوشل میڈیا پوسٹس کی چھان بین کی اور ان میں مذہب کے بارے میں قابل اعتراض ریمارکس پائے گئے۔ اس کے بعد یہ ایف آئی آر آئی پی سی کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔
گرفتاری کا مطالبہ
خلیجی ممالک کی جانب سے ناراضگی ظاہر کرنے کے بعد بی جے پی نے ان دونوں رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی ہے تاہم مسلم کمیونٹی ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ نوپور شرما کو ان کے ریمارکس پر دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں اور دہلی پولیس نے ان کی سیکورٹی سخت کردی ہے۔ کچھ دن پہلے بی جے پی لیڈر ہرشیت سریواستو کو کانپور پولیس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے تبصرے پر گرفتار کیا تھا۔
ملک کو شرمندہ ہونا پڑا: ٹھاکرے
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں کئے گئے تبصروں پر بی جے پی کی وجہ سے ملک شرمندہ ہوا ہے۔ اورنگ آباد میں شیو سینا کی ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیوسینا سربراہ نے کہا کہ جس طرح ہمارے بھگوانوں کی توہین نہیں ہونی چاہیے، پھر آپ دوسروں کے بھگوان کی توہین کیوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ہندوستان کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔









