فرید آباد کی پرائیویٹ یونیورسٹی الفلاح یونیورسٹی لال قلعہ بم دھماکہ کے بعد سے خبروں میں ہے۔ اور مین اسٹریم میڈیا نے اسے نشانے پر لے لیا ہے یہ بات پہلے ہی آچکی ہے کہ فرید آباد کے دھوج علاقے میں دھماکہ خیز اور آتش گیر مواد ضبط کیا گیا تھا ۔ اس ضبطی کا براہ راست تعلق دہلی کے لال قلعہ کے باہر ہونے والے دھماکے سے بتایا جاتا ہے ـ ‘دینک ہندوستان’ الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ کے ایک کشمیری میڈیکل پروفیسر ڈاکٹر مزمل شکیل کی گرفتاری کے واقعہ کو بنیاد بناکر یونیورسٹی کو بھی شک کے دائرے میں لینے کی کوشش کی ہے اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس گرفتاری نے یونیورسٹی کے اندر سرگرم ‘وائٹ کالر’ دہشت گرد گروہ کو بے نقاب کر دیا۔دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹرز، بیٹریاں، ٹائمر، اور ہتھیار، بشمول ایک AK-56 رائفل اور ایک کرینکوف رائفل، یونیورسٹی کیمپس کے قریب مزمل کی کرائے کی رہائش سے برآمد ہوئی۔ یونیورسٹی کے 52 سے زیادہ لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ فرید آباد پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لیا ہے اور دہشت گردی کے ماڈیول کی تفتیش کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق الفلاح یونیورسٹی کے چالیس فیصد ڈاکٹروں کا تعلق کشمیر سے ہے۔
الفلاح یونیورسٹی 2014 میں ہریانہ اسمبلی کے ایک خصوصی ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی اور اسے 2015 میں UGC کی منظوری ملی تھی۔ اس کا 70 ایکڑ کیمپس ہریانہ میں نوح سرحد کے قریب واقع ہے۔ ہندوستان اور دیگر ممالک کے طلباء یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ الفلاح سکول آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، براؤن ہل کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، اور الفلاح سکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اسی کیمپس میں کام کرتے ہیں۔
الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کام کر رہا ہے۔
الفلاح یونیورسٹی الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے۔ یہ ٹرسٹ یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے ادارے چلاتا ہے، جن میں الفلاح سکول آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، الفلاح سکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، الفلاح سکول آف پیرا میڈیکل سائنسز، اور الفلاح سکول آف کامرس اینڈ مینجمنٹ شامل ہیں۔ الفلاح یونیورسٹی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ ہاسٹل، اساتذہ کے لیے رہائشی کوارٹر اور ڈاکٹروں کے لیے ایک رہائشی بلاک ہے۔ کیمپس میں جدید ترین لیبارٹریز، ایک کمپیوٹر سنٹر، اور ایک بڑی لائبریری کمپلیکس بھی ہے۔
•••ایم بی بی ایس کی 200 اور ایم ڈی کی 38 نشستیں
یونیورسٹی مختلف کورسز پیش کرتی ہے، بشمول ڈپلومہ، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، اور پی ایچ ڈی۔ اس کا میڈیکل کالج بھی مشہور ہے، جو 200 ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی 38 نشستیں پیش کرتا ہے۔ ایم بی بی ایس کی کل فیس تقریباً 80 لاکھ روپے ہے۔
الفلاح ہسپتال 650 بستروں پر مشتمل ایک خیراتی ہسپتال ہے۔ الفلاح سکول آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ سنٹر کو 2019 میں ایم بی بی ایس کے اپنے پہلے بیچ میں داخلے کے لیے NMC کی منظوری مل گئی
اخبار کا رپورٹر لکھتا ہے کہ لال قلعہ بم دھماکہ کی تفتیش میں فرید آباد پولیس نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر مزمل کے ساتھیوں، طلباء اور یہاں تک کہ میڈیکل کالج کے پرنسپل سے بھی گھنٹوں پوچھ گچھ کی گئی۔ اب تک 52 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔رپورٹر نے یہاں یونیورسٹی پر انگلی اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘ایسے باوقار تعلیمی ادارے میں دہشت گردی کے ماڈیول سے منسلک مشتبہ افراد کی موجودگی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مکمل تحقیقات سے اب پتہ چلے گا کہ آیا یہ محض چند گمراہ افراد کا معاملہ تھا یا پھر تعلیم کی آڑ میں کوئی بڑی سازش رچی جا رہی تھی’۔
الفلاح یونیورسٹی کو ایسی خبروں ہر نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی جو اس کی ساکھ اور نیک نامی پر بٹہ لگانے والی ہوں اگر یہ حقیقت سے پرے ہیں











