نئی دہلی: (ایجنسی)
آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف اتر پردیش کے خیر آباد کے ایک پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر ان کے اس ٹوئٹ کے بعد درج کی گئی،جس میں انہوں نے یتی نرسنگھانند، مہنت بجرنگ منی اور آنند سوروپ کو ’نفرت پھیلانے والا‘ کہا ۔
رپورٹ کے مطابق، خود کو راشٹریہ ہندو شیر سینا کا ضلع سربراہ بتانے والے بھگوان شرن کی طرف سے سیتا پور کے خیر آباد پولیس اسٹیشن میں دی گئی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے زبیر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 295اے (کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی عمل) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 (الیکٹرانک شکل میں فحش مواد کی اشاعت یا ترسیل) کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔
گزشتہ 27 مئی کو ٹوئٹس کی ایک سیریز میں زبیر نے ہندوستانی نیوز ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والے پرائم ٹائم مباحثے کو نشانہ بنایا تھا، جس میں انہوں نے گیان واپی مسجد پر جاری تنازعہ کے حوالے سے کہا تھا، یہ (ٹی وی نیوز چینل) نفرت پھیلانے والوں کے لیے دوسرے مذاہب کے بارے میں بیہودگی کا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ٹائمز ناؤ چینل پر اس کی اینکر نویکا کمار کے ذریعے منعقد بحث’دی گیان واپی فائلز‘کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے ٹوئٹ کیا:
خصوصی طور پر اس ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے شکایت گزار نے کہا کہ زبیر کے اس ٹوئٹ سے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، جس میں ان کے ’ مہنت بجرنگ منی کو نفرت پھیلانےوالا‘کہا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبیر مسلمانوں کو ہندو رہنماؤں کے ’قتل‘ کے لیے اکسا رہے تھے۔









