نئی دہلی :(ایجنسی)
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ایک سابق اہلکار نے قطب مینار کو لے کر بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسے راجہ وکرمادتیہ نے پانچویں صدی میں تعمیر کرایا تھا، تاکہ وہ سورج کی بدلتی ہوئی سمت کو دیکھ سکے۔ انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں ثبوت پیش کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گیان واپی مسجد سے لے کر متھرا کا شاہی عیدگاہ ، دہلی کے جامع مسجد تک کے پہلے مندر ہونے کی بات کہی جا رہی ہے اورالگ الگ عدالتوں میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں ۔
اے ایس آئی کے سابق علاقائی ڈائریکٹر دھرم ویر شرما نے دعویٰ کیا کہ قطب مینار کو قطب الدین ایبک نے نہیں بلکہ راجہ وکرمادتیہ نے بنایا تھا۔ انہوں نے اسے سورج کی سمت کا جائزہ لینے کے لیے بنایا تھا۔ ’یہ قطب مینار نہیں بلکہ سن ٹاور (وید شالہ) ہے۔ اسے 5ویں صدی میں راجہ وکرمادتیہ نے بنایا تھا۔ قطب الدین ایبک نے ایسا نہیں کیا۔ میرے پاس اس بارے میں بہت سے شواہد ہیں۔انہوں نے اے ایس آئی کی جانب سے قطب مینار کا کئی بار سروے کیا ہے ۔
دھرم ویر شرما نے مزید کہا، ’’قطب مینار میں25 انچ کا جھکاؤ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے سورج کا جائزہ لینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ 21 جون کو کم از کم آدھے گھنٹے تک وہاں کوئی سایہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ سائنس اور آثار قدیمہ کی حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطب مینار ایک الگ ڈھانچہ ہے اور اس کا قریبی مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قطب مینار کا دروازہ شمال کی سمت ہے جو رات کے وقت قطب ستارے کو دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔









