لکھنؤ :(ایجنسی)
اتر پردیش میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران تشدد اور بدامنی کے بعد پولیس سخت موڈ میں آگئی ہے۔ پولیس نے اترپردیش کے کئی شہروں سے گرفتاریاں کی ہیں اور اب تک 227 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ستیہ ہند ی ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو اتر پردیش میں پریاگ راج سے لے کر دیوبند، سہارنپور، لکھنؤ اور کئی شہروں میں مسلم کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور بی جے پی لیڈر نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
اس دوران پریاگ راج میں کافی نعرے بازی اور ہنگامہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بجنور، مرادآباد اور رامپور میں بھی مسلم کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پولیس سے کہا ہے کہ وہ پریاگ راج سمیت ریاست کے کئی اضلاع میں ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں شرپسندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے۔
پریاگ راج میں پولیس نے 5000 سے زیادہ نامعلوم جبکہ 70 نامزد لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اٹالہ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
جمعہ کو اٹالہ علاقے میں کافی دیر تک پتھراؤ جاری رہا اور کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس بھی چھوڑے تھے۔
پولیس ہائی الرٹ پر
پولیس نے اب تک سہارنپور سے 48، پریاگ راج سے 68، ہاتھرس سے 50، مرادآباد سے 25، فیروز آباد سے 8 اور امبیڈکر نگر سے 28 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر تمام شہروں میں پولیس ہائی الرٹ پرہے۔
اس کے علاوہ کولکاتا اور ہاوڑہ، رانچی، حیدرآباد اور دہلی میں بھی مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے بی جے پی لیڈر نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔
کانپور سے ہنگامہ شروع ہوا تھا
ملک بھر میں احتجاج کا یہ دور3 جون سے شروع ہواتھا جب کانپور میں بڑی تعدادمیں مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے ایک مقامی بازارکو بند کرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد دونوں برادریوں کے لوگ آمنے سامنے آگئے اور پتھراؤ اور تشدد ہوا تھا۔
یہ تشدد ایک ایسے دن ہوا جب صدر رام ناتھ کووند، وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کانپور میں موجود تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے کئی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔









