نوح میوات(محمد صابر قاسمی )
شوبھا یاترا، جل ابھیشیک پرکرما،کے عنوان پر مذہبی یاترا کی مناسبت سے منافرت کا فروغ دینا عام سی بات ہو چلی ہے، 31 جولائی 2023 کو نوح میوات اس یاترا کے نام پر جو کچھ ہوا، یہ سوچ کر روح کانپ اٹھتی، قصوروار کون ہے اور کون نہیں یہ سب مخفی نہیں ہے؟۔
ہماری فکر یہ ہے کہ خطہ میوات کے حالت کو جلد از جلد بہتر کیا جائے اس کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہم سب کوکوششیں کرنا ہوں گی۔ان خیالات کا اظہار،، دہنگل پال کے چوہدریوں نے کیا،
، متذکرہ چوہدریوں نے واضح طور پر کہا کہ کچھ فرقہ پرست طاقتیں اس علاقے کا ماحول خراب کرکے اپنی سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتی ہیں، اس لیے سماج کو فرقوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں حالیہ آل ذات ہندو مہاپنچایت تگھرا گروگرام، پونڈری پلول ، اینڈری نوح ،اور پٹودی مانیسر مبینہ منعقدہ پنچایتیں اس کا ایک واضح ثبوت ہیں،
دہنگل پال کے تینوں چوہدریوں نے متفقہ طور پر کہا کہ ان متذکرہ مقامات کی مہاپنچایتوں میں کیسے سماجی ماحول میں زہر گھولا گیا اور نفرت کے بیج بوئے گئے، یہ سب سب نے سنا ہے، کچھ کے خلاف مقدمہ بھی درج کیے گیے ہیں، لیکن انتظامیہ کےموثر اقدامات نظر نہیں آتے جو تشویش کی بات ہے،
اس لیے وی ایچ پی نے سینہ زوری دکھاتے ہوئے بغیر اجازت کے سرکار اور انتظامیہ کو کھلا چیلنج پیش کرتے نوح میں 28 اگست کو یاترا نکالنے کا اعلان کیا ہے، جو ایک بار پھر ہم سب اہلیان میوات کے لیے لمحہ فکریہ ہے،
چوہدری جان محمد دہنگل نے کہا کہ اسی تناظر میں 26 اگست کو الور ضلع کے گاؤں میو کا بڑودہ میں جاٹ برادری کی جانب سے کسان مہاپنچایت منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں کسانوں، مزدوروں اور محنت کش طبقے کے بھائی چارے پر بات ہوگی وقت بہت نازک ہے، میوات ابھی ایک بڑی آفت سے گزر رہا ہے، تھوڑی سی بات ماحول کو خراب کر سکتی ہے، اس تناظر میں دہنگل پال کے چوہدری عبدالستار،چھاروڑا چوہدری طالب ڈونگر پور گھاسیڑیا، چوہدری جان محمد دہنگل چندینی نے 26 اگست کو مہاپنچائیت اور 28 اگست کو شوبھا یاترا کو سرکار اور ضلع انتظامیہ سے ملتوی کیے جانے کا مطالبہ کیا وہیں انہوں نے کہا کہ اگر میو کا بڑودہ پنچایت منعقد ہوتی ہے یا پھر نوح میوات میں شوبھا یاترا نکالی جاتی ہے، ایسے حالات میں
ہریانہ اور راجستھان کی حکومتوں کو چاہیے کہ مناسب اور پختہ انتظامات کریں اور امن کی بحالی یقینی بنائیں، اس کے لیے انتظامیہ کو چاق چوبند اور چوکنا رہنا ہوگا
سبھی چوہدریوں نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ ان دونوں پروگراموں کے انعقاد پر میواتیوں اور میوات کے لوگوں کو چوکنا رہنا ہوگا، یہی طریقہ کار قوم کے کے لیے رہنما پیغام کے طور پر سمجھ میں آتا ہے،ایک ایسے نازک وقت میں جب میوات کی لیڈرشپ منظر نامہ سے غائب ہوچکی، اور میواتیوں پر زور زبردستی یکطرفہ پولس کاروائی کا سلسلہ جاری ہے،
اس میٹنگ میں اہم شرکاء کے طور پر، چودہری جان محمد چندینی، چوہدری عبدالستار دہنگل، چوہدری طالب حسین گھاسیڑیا،وغیرہ قابل ذکر ہیں-










