نئی دہلی :(ایجنسی )
بنگلہ دیش کے وزیر تعلیم دیپو مونی نے ہفتے کے روز ’ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ان کی ضمانت‘ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن صرف’آزادی مذہب اور مذہبی امور کے انتظام کے لیے آئین کی دفعات کے منصفانہ نفاذ کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘ اور استحکام آئے گا۔
جن ستا کی رپورٹ کے مطابق بنگلورو میں منعقدہ کنکلیو’’ India@2047‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے، مونی نے کہا، ’اگر ہندوستان کو دنیا کے سامنے ایک عظیم عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرنا ہے، تو اسے آئین سازوں کے خوابوں کو پورا کرنا ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہندوستان کی جانب سے اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق کا تحفظ اور ضمانت دینا تمام خواتین خصوصاً درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، پسماندہ طبقات اور سماج کی تمام خواتین کی صلاحیتوں کو سامنے لانے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔
غور طلب ہے کہ اس کانفرنس کا انعقاد انڈیا فاؤنڈیشن نے کیا تھا اور اس تھنک ٹینک کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔
اس دوران مونی نے منچ سےکہا کہ’بھارت کے لیے بھارتمیں سماجی تقسیم نہ صرف انہیں ان کے حقوق سے محروم کرے گی بلکہ ان کے خلاف امتیازی پالیسیوں اور رویوں کو نافذ کرنے میں مدد کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف زبانوں اور ثقافت کی حامل اقلیتوں کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔ یہ کشیدگی کو روکنے اور فرقہ وارانہ تشدد سے بچنے میں مدد کر سکتا ہے، اور یہ تمام ممالک پر لاگو ہوتا ہے۔‘
بتادیں کہ اس کانکلیو میں غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ کئی ہندوستانی سیاستدان بھی پہنچے تھے۔ اس دوران مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے کہا کہ 2047 تک ہندوستان دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا اور عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 15 فیصد سے زیادہ ہوگا۔ ہندوستان کی فی کس آمدنی 2010-11 میں 53,000 روپے سے بڑھ کر 2047 میں 4 لاکھ روپے ہو جائے گی۔
سندھیا نے کہا کہ ’ہندوستان نے ہمیشہ اپنی علاقائی سالمیت کی حفاظت کی ہے، لیکن اس نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ میں نہ صرف 1947 بلکہ 5000 سال کی ہندوستانی تاریخ کی بات کر رہا ہوں۔ ہندوستان نے ہمیشہ دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے پر زور دیا ہے۔









