نئی دہلی:(ایجنسی)
بہار کے سارن میں پنچایت نے پانچ نوجوانوں کو ذات پر مبنی گالی دینے پر سخت سزا سنادی۔ پانچوں نوجوانوں کے سروں پر جوتے اور چپل ڈال کر ان سے معافی مانگوائی۔ ان نوجوانوں کو 11 ماہ کے لیے گاؤں سے بھی نکال دیا گیا۔ اسے پنچایت کا تغلقی فرمان کہیں یا کچھ اور کہ فیس بک پر ایک مخصوص ذات کے بارے میں قابل اعتراض الفاظ بولنے والے پانچ نوجوانوں کو نہ صرف پورینچایت میں رسوا ہوناپڑا بلکہ ان تمام کو پنچایت سے بائیکاٹ کردیا گیا۔ یہ واقعہ سارن کی گڑکھا پربلاک کے مٹھی پور پنچایت کا ہے۔
معافی مانگنے کے باوجود سزا دی گئی
جب گاؤں والوں اور پنچایت کے عوامی نمائندوں نے ان پانچوں کا لائیو فیس بک دیکھا تو انہوں نے پانچوں نوجوانوں کو پکڑ کر پنچایت کے سامنے بلایا اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بعد سبھی کو سر پرجوتا رکھوا کر پوری پنچایت میں گھومایا گیا ۔
گڑکھا کے ایس ایچ او نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کو نوجوانوں کے گھر بھیجا گیا تھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی شکایت درج نہیں کی گئی۔









