ترواننت پورم:(ایجنسی)
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پی وجین نے کہا ہے کہ وہ اپنی ریاست میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لاگو نہیں کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی اے اے پر ان کی حکومت کا موقف مکمل طور پر واضح ہے۔
بتا دیں کہ سال 2019 کے آخر میں سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں زبردست مظاہرے ہوئے تھے۔ دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر ملک کے کئی شہروں میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے اس قانون کے خلاف احتجاج و دھرنا دیا۔
اس دوران کئی اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کی حکومتوں نے اپنی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ CAA کو لاگو نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلیٰ وجین نے کہا کہ ان کا ملک سیکولرازم کے اصول پر کام کرتا ہے اور یہ ہمارے آئین میں لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں ملک میں سیکولرازم کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور کچھ لوگ مذہب کی بنیاد پر شہریت دینا چاہتے تھے لیکن کیرالہ حکومت نے اس سلسلے میں بہت سخت موقف اپنایا ہے۔
بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت ابھی تک اس قانون کو نافذ نہیں کر پائی ہے۔ گزشتہ ماہ ہی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں کہا تھا کہ سی اے اے کو کورونا کے مکمل خاتمے کے بعد لاگو کیا جائے گا۔
سی اے اے کیا ہے؟
پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور شدہ شہریت ترمیمی قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے مذہبی اقلیتوں – ہندوؤں، سکھوں، جینوں، بدھستوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو ہندوستانی شہریت دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت ان کمیونٹیز کے وہ لوگ جو 31 دسمبر 2014 سے پہلے ہندوستان آئے تھے، انہیں غیر قانونی تارکین وطن نہیں مانا جائے گا بلکہ انہیں ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔









