اب تک ہندوستان میں ہی رام نومی پر شوبھا یاترا کے موقع پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوتی تھی لیکن اب اس کی آنچ پڑوسی ملک نیپال تک بھی پہنچ گئی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو نیپال کے جنک پور میں رام نومی کی شوبھا یاترا میں شامل لوگوں نے مسجد کے قریب ہنگامہ برپا کر دیا۔جنک پور میں جانکی مندر کے پیچھے ایک مسجد ہے۔ شوبھا یاترا میں شامل درجنوں بھگوا پہننے والوں نے اس مسجد کے قریب ہنگامہ کیا۔
جنک پور کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا واقعہ یہاں پہلی بار ہوا ہے۔
بی بی سی کے مطابق اس واقعے کے عینی شاہد ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ’شوبھا یاترا قریبی دیہاتوں سے جنک پور پہنچ رہی تھی۔ جیسے ہی یاترا جنک پور کے لاڈو بیلہ روڈ پر پہنچی تو لوگوں نے جارحانہ انداز میں نعرے بازی شروع کردی۔لاڈو بیلہ روڈ کے آس پاس مسلمانوں کی بستیاں ہیں۔ لاڈو بیلہ روڈ ایک طرح سے جنک پور کا گیٹ وے ہے۔ یہاں ایک بس سٹینڈ بھی ہے۔ جارحانہ نعرے سن کر مسلمان بھی متحد ہونے لگے۔ کچھ ہی دیر میں مسلمان اپنی چھتوں پر چڑھ گئے۔”
"ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ بڑا نہ ہوجائے ۔بھیڑ بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ شوبھا یاترا میں شریک ہندوؤں کے نعروں کے جواب میں مسلمان بھی مشتعل ہو گئے۔”
بتایا جاتا ہے کہ شوبھا یاترا کے بعد بھگوا دھاری درجنوں سواریاں مسجد پہنچی تھیں۔
بھگوا پوش درجنوں جانکی لاڈو بیلہ سے ہی مندر کے پیچھے مسجد پہنچیں۔ مسجد کے گیٹ پر بھگوا جھنڈے لہراتے ہوئے لوگ جئے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے۔
"لوگ کافی جارحانہ تھے۔ علاقے کے مسلمان حیران رہ گئے۔ مسلمانوں نے پہلے پولیس کو اطلاع دی، جب پولیس موقع پر پہنچی تو بھگوا دھاری بھاگ گئے۔
لوگ ہاتھوں میں تلواریں اور لاٹھیاں لے کر نعرے لگا رہے تھے – بھگواد اری آگیے، اب تمہاری باری ہے۔ تمام مسلمان پاکستان چلے جائیں۔ لوگ ایسے نعرے لگا رہے تھے۔ سچ پوچھیں تو ہم خوفزدہ ہیں۔ جنک پور میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔
جنک پوری کے پرمکھ ضلع افسرکاشی داہال نے بی بی سی سے کہا، “ہم ویڈیو دیکھنے کے بعد لوگوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے علاقے کے مسلمانوں کو ضلعی دفتر بلایا ہے۔بہر حال نیپال میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جو آنے والے دنوں کی کہانی بتارہا ہے
واضح ہو آر ایس ایس کی کل 12 تنظیمیں کام کرتی ہیں۔ نیپال 2006 میں ایک ہندو راشٹر سے سیکولر ملک بن گیا۔ بہت سے مسلمان کہتے ہیں کہ وہ ہندو راشٹر میں زیادہ محفوظ تھے۔








