نئی دہلی :(ایجنسی)
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) کےذریعہ پوسٹ گریجویٹ کورسز کے لئےشروع کئے گئے کامن یونیورسٹی انٹرینس ٹیسٹ (سی یو ای ٹی ) کے توسط سے کل 35 سیٹرل یونیورسٹی طلبہ کو ایڈمشن دیںگی۔ حالانکہ دہلی یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے کچھ مقبول یونیورسٹیاں اس تعلیمی سیشن کے لئے سی یو ای ٹی پی جی کی بنیاد پر ایڈمشن نہیں دیں گی۔
پی جی کورسز کے لئے داخلہ عمل ابھی جاری ہے ۔ یونیورسٹی اپنا الگ داخلہ امتحان منعقد کر سکتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہاہے کہ اگلے تعلیمی سیشن کے لئے سی یو ای ٹی -پی جی کو اپنانے پر اکیڈمک کونسل جلد ہی فیصلہ لےگی۔ حالانکہ میٹنگ کے لئے ابھی کوئی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی ، چنڈی گڑھ یونیورسٹی بھی اگلے تعلیمی سیشن سے سی یو ای ٹی – پی جی لینے کے فیصلے پر غور کر رہی ہے ۔ اس سال پوسٹ گریجویٹ ایڈمشن صرف پنجاب یونیورسٹی کامن انٹرینس ٹیسٹ (پی یو سی ای ٹی) 2022 کے توسط سے کئے جائیں گے ۔
دریں اثنا، ڈی یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی اپنے متعلقہ مشترکہ داخلہ امتحانات کے ذریعے طلبہ کو داخلہ دے رہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے رجسٹرار وکاس گپتا نے کہا،’چونکہ CUET-PG مرکزی یونیورسٹیوں کے لیے لازمی نہیں ہے، اس لیے DU نے اس سال اسے اپنانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ CUET-PG کو اپنانے کے فیصلے پر اکیڈمک کونسل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سال کے لیے، ہم پی جی کورسز کے لیے موجودہ DU داخلہ امتحان کو جاری رکھیں گے۔
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ آنے والے تعلیمی سال میں 42 مرکزی یونیورسٹیوں میں پوسٹ گریجویٹ کورسز میں داخلے کے لیے مشترکہ داخلہ ٹیسٹ لیا جائے گا۔ تاہم، یونیورسٹیاں CUET UG کی طرح CUET PG کو اپنانے کی پابند نہیں ہیں۔
بتادیں کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) اور پانڈی چیری یونیورسٹی نے CUET-PG کو اپنانے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ JNU میں خصوصی کورسز کے پوسٹ گریجویٹ اور ایڈوانس ڈپلومہ کورسز میں داخلہ CUET کے ذریعے کیا جائے گا۔









