سعودی عرب کے سابق وزیر قانون اور اعتدال پسند اسلام کی بین الاقوامی آواز سمجھے جانے والے محمد بن عبدالکریم العیشاء اگلے ہفتے سراج الدین قریشی کے خسرو فاؤنڈیشن کی دعوت پر ہندوستان آرہے ہیں
انگریزی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ نے عبدالکریم العیشاء کے دورہ ہندوستان کے تعلق سے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ سابق سعودی وزیر ،بھارت کے وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، اقلیتی امور کی وزیر اسمرتی ایرانی سے ملاقات کریں گے۔
وہ صدر دروپدی مرمو سے بھی مل سکتے ہیں۔
العشاء مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ سعودی عرب کے زیر تسلط یہ بااثر تنظیم دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ العشا کا دورہ ہند ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں یکساں سول کوڈ لانے پر زور دے رہے ہیں۔ العیشاء نے اپنی قیادت میں سعودی عرب میں بہت سی اصلاحات نافذ کی تھیں۔ ان میں خاندانی معاملات، انسانی امور اور خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
انہوں نے مختلف برادریوں، فرقوں اور ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دنیا بھر میں کئی مہمات کی قیادت بھی کی۔
اخبار نے لکھا ہے کہ العشا 10 جولائی کو اجیت ڈوول سے ملاقات کریں گے اور دہلی کے خسرو فاؤنڈیشن کی دعوت پر دارالحکومت میں مذہبی رہنماؤں، مختلف برادریوں کے رہنماؤں اور علماء سے خطاب کریں گے۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق فا
العشا اپنے خطاب میں اعتدال پسند اسلام، مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے فروغ، بین المذاہب مکالمے، عدم تشدد اور مذہبی تکثیریت پر بھی بات کر سکتے ہیں۔
فاؤنڈیشن کے چیئرمین سراج الدین قریشی نے اخبار کو بتایا کہ عرب ممالک کے سفارت کار، مذہبی رہنما، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دیگر اہم اداروں کے پروفیسرز اور سکالرز کو اس پروگرام میں مدعو کیا جائے گا جہاں العشاء خطاب کریں گے۔
ذرائع کے مطابق عشاء جمعہ کی نماز کے لیے جامع مسجد جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے اکشردھام مندر جانے کا بھی امکان ہے۔ وہ آگرہ بھی جائیں گے۔









