جنرل شنکر رائے چودھری نے جو کہ نوے کی دہائی میں ایک اعلیٰ فوجی افسر تھے، کہا کہ پلوامہ میں جو کچھ ہوا اس سے بچا جا سکتا تھا۔انہوں نے دی ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوۓ ان خیالات کا اظہار کیا۔
سابق فوجی افسر نے بتایا کہ، "پلوامہ میں مرنے والوں کی بنیادی ذمہ داری وزیر اعظم کی سربراہی میں مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے، جسے این ایس اے نے مشورہ دیا ۔ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے” آپ کو اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔”
جنرل نے کہا ہے کہ ‘اگر جوانوں کو ہوائی راستے سے لے جایا جاتا تو جان بچائی جا سکتی تھی۔ قومی شاہراہ پر طویل قافلوں پر حملے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ اور انہیں ہوائی جہاز سے لے جانا زیادہ آسان ہے۔”
واضح ہو جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے معروف صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 2019 میں کشمیر میں پلوامہ حملے کا ذمہ دار مرکزی حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کئی دعوے کیے ہیں۔
جمعہ کو نشر ہونے والے اس انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملہ سسٹم کی ‘نااہلی’ اور ‘لاپرواہی’ کا نتیجہ تھا۔
انہوں نے خاص طور پر سی آر پی ایف اور مرکزی وزارت داخلہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔








