نئی دہلی :(ایجنسی)
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ بتا دیں کہ 25 جون کو گجرات اے ٹی ایس نے سیتلواڑ، ریٹائرڈ ڈی جی پی آر بی سری کمار، سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاری 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق ایک معاملے میں سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس کے بعد کی گئی ہے۔
اس گرفتاری پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میں غلط نہیں ہوں تو گرفتاری کو لے کر عدالت کا نہ تو کوئی مشورہ تھا اور نہ ہی ان کا ادارہ تھا۔ اس کو لے کر کیا میں فاضل جج صاحبان سے فوری وضاحت کی اپیل کر سکتا ہوں ۔‘‘
جسٹس لوکور نے نیوز پورٹل دی وائر میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی تیستا کی غیر مشروط رہائی کا حکم دینا چاہئےاور اس کی گرفتاری اور مسلسل نظربندی کو منسوخ کرنا چاہیے۔
بتاتے چلیں کہ گجرات اے ٹی ایس نے سپریم کورٹ کے تبصرے کے بعد تیستا سیتلواڑ، ریٹائرڈ ڈی جی پی آر بی سری کمار، سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو گرفتار کیا تھا۔ درحقیقت، 24 جون کو گجرات فسادات کے دوران گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے معاملے میں سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا تھا کہ قانونی عمل کو غلط استعمال کرنے میں ملوث تمام لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔
سیتلواڑ اور دیگر کے خلاف درج کیس میں گجرات پولیس نے عدالت کے کچھ مشاہدات کا بھی حوالہ دیا تھا۔ جس پر سابق جسٹس لوکور نے کہا ہے کہ اگر جج خاموش رہیں تو نتیجہ صاف ہے۔ سابق جج حیران ہیں کہ گجرات اے ٹی ایس نے سیتلواڑ کو کیوں گرفتار کیا؟ اس کے خلاف دہشت گردی سے متعلق کوئی الزام نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2002 کے گجرات فسادات میں ذکیہ جعفری نے سپریم کورٹ میں ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ اس درخواست میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 55 سیاست دانوں کو کلین چٹ دی گئی تھی۔ 24 جون کو سپریم کورٹ نے ذکیہ جعفری کی رپورٹ کے خلاف عرضی کو خارج کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو برقرار رکھا۔









