نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی کے تینوں میونسپل کارپوریشن 22 مئی سے ایک ہو جائیں گے۔ مرکزی حکومت نے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کو چلانے کے لیے آئی اے ایس افسر گیانیش بھارتی کو ایم سی ڈی کا نیا کمشنر مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی اے ایس افسر اشونی کمار کو ایم سی ڈی کے لیے خصوصی افسر مقرر کیا گیا ہے۔
بتاتے دیں کہ سال 2012 تک دہلی میں ایک متحدہ میونسپل کارپوریشن تھی لیکن دہلی کی اس وقت کی شیلا دکشت حکومت نے اسے شمالی، جنوبی اور مشرقی میونسپل کارپوریشنوں میں تقسیم کردیا تھا۔
پچھلے مہینوں میں یہ بات چل رہی تھی کہ مرکزی حکومت دہلی کی تین میونسپل کارپوریشنوں کو ایک کرنے جا رہی ہے۔ اس کے بعد ان میونسپل کارپوریشنوں کے انضمام سے متعلق بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا اور تینوں میونسپل کارپوریشنوں کو متحد کرنے کا عمل مکمل ہوا۔
جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کی میعاد 18 مئی کو پوری ہوچکی ہے، جبکہ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی مدت 19 مئی کو اور مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کی مدت 22 مئی کو پوری ہوجائے گی۔
ایم سی ڈی کے لیے کمشنر اور اسپیشل آفیسر کی تقرری کے بعد میونسپل کارپوریشنوں کے عملے میں ردوبدل کا کام ہوگا۔ وارڈز کی تنظیم نو کا کام بھی کیا جائے گا۔
اس وقت دہلی میونسپل کارپوریشن میں 272 وارڈ ہیں۔ ان میں سے کئی وارڈ خواتین اور درج فہرست ذاتوں کے لیے ریزرو کیے جانے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایم سی ڈی کے میئر اور کونسلروں کو زیادہ اختیارات ملیں گے۔
کمزور ہوگی دہلی سرکار ؟
2012 سے پہلے دہلی میونسپل کارپوریشن کی مالی ضروریات کو مرکزی حکومت وزارت داخلہ کے ذریعے پورا کرتی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک بار پھر میونسپل کارپوریشن کو مضبوط پوزیشن میں لانے کی تیاری ہے اور میئر کا عہدہ بہت مضبوط اور اہم ہو جائے گا۔ لیکن کیا پھر دہلی میں دو متوازی حکومتیں نہیں چلیں گی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا دہلی حکومت کے اختیارات مزید کم ہو جائیں گے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب دہلی میں میونسپل کارپوریشن کو مضبوط کرنے سے دہلی قانون ساز اسمبلی مفلوج ہو جائے گی یا اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا؟ اگر دیکھا جائے تو دہلی حکومت کو اب بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے دہلی کے لیے کوئی قانون پاس کرے۔
کہنے کو تو دہلی حکومت کے پاس زمین، پولیس اور لاء اینڈ آرڈر نہیں ہے، لیکن حقیقت میں اسے کسی بھی محکمے سے متعلق کوئی بل لانے کا حق بھی نہیں ہے۔
دہلی حکومت کو حال ہی میں پارلیمنٹ میں کچھ ترامیم کرکے اور بھی کمزور کیا گیا ہے۔ اس لیے عام آدمی پارٹی میں یہ خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت دہلی حکومت کا وجود تو ختم کرنے نہیں جارہی ہے۔









