صری وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ فلسطینی کاز کو ختم کرنے کا منظم منصوبہ ہے۔
یہ بات انہوں نے عرب وزرائے خارجہ کے غزہ کی جنگ پر ریاض میں منعقدہ اجلاس میں کہی۔
مصری وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں کشیدگی بحیرۂ احمر اور باب المندب تک پھیل گئی
اجلاس میں سیکریٹری خارجہ خلیج تعاون کونسل نے غزہ میں انسانی حقوق خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔
اجلاس میں اردن اور مراکش کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی
ادھر امریکی نائب صدر کاملا ہیرس نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی پر راضی ہوجائیں، انہوں نے اسرائیل کو غزہ میں امداد کی ترسیل پر بھی پر زور دیا۔
امریکا میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر چھ ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں بے گناہ لوگ انسانی تباہی کا شکار ہیں، اسرائیل کو تباہ شدہ علاقوں میں امداد کی ترسیل بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ غزہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد وہاں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے، اس وقت میز پر ایک معاہدہ موجود ہے، حماس کو اس معاہدے پر رضامندی کی ضرورت ہے۔
کاملا ہیرس نے کہا کہ غزہ میں لوگ بھوک سے مررہے ہیں، وہاں کے حالات غیرانسانی ہیں، اسرائیلی حکومت کو بغیر کسی بہانے کے امداد کی ترسیل میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔
دریں اثنا تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلیوں نے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے حماس کے ساتھ جنگ سے نمٹنے کے طریقے کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا۔مظاہرین شہر کے کپلن جنکشن میں جمع ہوئے جن میں سے کچھ گا رہے تھے اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فلسطین مزاحمت کاروں کے پاس موجود 134 مغویوں کی رہائی کے لیے مزید اقدامات کریں۔۔











