نئی دہلی :(ایجنسی)
وارانسی کی گیان واپی مسجد مندر کی لڑائی اب مغلوں کی رانیوں تک پہنچ چکی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ ‘ہندوستان کے مسلمانوں کا مغلوں سے کوئی رشتہ نہیں ہے، لیکن یہ بتائیں کہ مغل بادشاہوں کی بیویاں کون تھیں؟ اویسی کے بیان پر مسلم مذہبی رہنما ناراض ہیں۔
لکھنؤ کے دارالعلوم فرنگی محلی کے ترجمان مولانا سفیان نظامی نے آج تک سے بات چیت میں کہا کہ ‘مسلمان اس قسم کی بیان بازی سے خوش نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ وقت ایسا ہے جہاں مندر اور مسجد کے تنازع کو لے کر کہیں نہ کہیں دونوں برادریوں کے درمیان تنازع میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
ترجمان مولانا سفیان نظامی نے کہا کہ ‘ایسا بیان اپنا سیاسی ایجنڈا بنا کر دیا جا رہا ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے نام پر ان کی حمایت کی بات کرتے ہیں، ایسے لوگوں نے کبھی مسجد کے بارے میں کچھ نہیں کیا اور نہ ہی اس کی تعمیر میں حصہ ڈالتے ہیں۔
دارالعلوم فرنگی محلی کے ترجمان مولانا سفیان نظامی نے کہا کہ ‘اس طرح کے بیانات صرف سیاسی بیانات دینے کے لیے ہیں تاکہ دو برادریوں کو آمنے سامنے لایا جا سکے اور ان کی سیاسی سیاست کی جا سکے۔ آپ سب ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ ایسے بیانات دینے کے پیچھے کون ہے۔
اویسی نے کیا تھا یہ سوال؟
اسدالدین اویسی نے سوال کیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا مغلوں سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ بتائیں کہ مغل بادشاہوں کی بیویاں کون تھیں؟ اسدالدین اویسی نے گجرات کے سورت میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ بی جے پی پشیامتر کے ذریعہ تباہ کیے گئے بدھ مندروں کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتی ہے۔
اویسی مسلمانوں کا بھسماسور ہے
مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے اسد الدین اویسی کی پوسٹ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اویسی مسلمانوں کے بھسماسور ہیں، اویسی تو بتائیں کہ جب ہندوستان کے مسلمانوں کا مغلوں سے کوئی رشتہ نہیں ہے تو اویسی ان کی یادگاروں پر کیوں بے چین ہو جاتے ہیں، انہوں نے (اویسی) آج مادر طاقت کی توہین کی ہے۔









