اردو
हिन्दी
جولائی 24, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہیڈگوار کا بھاشن کرناٹک کی اسکولی کتابوں میں شامل

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
ہیڈگوار کا بھاشن کرناٹک کی اسکولی کتابوں میں شامل
132
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

بنگلورو :(ایجنسی)

کرناٹک میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بانی کیشو بلی رام ہیڈگوار کا بھاشن (تقریر) کو اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کا معاملہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ہیڈگوار کی تقریر کو اسکولی بچوں کے لیے کنڑ زبان کی کتاب میں شامل کیا جا رہا ہے۔

کچھ ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ کرناٹک حکومت نے بھگت سنگھ پر ایک باب کو ہٹانے کے فیصلے کو منسوخ کرکے ایک بڑے تنازع کو ٹال دیا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھگت سنگھ کا باب نصاب سے ہٹانے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت نے بھگت سنگھ پر لکھے گئے باب کو ہٹانے کا فیصلہ موخر کر دیا۔

لیکن خاص بات یہ ہے کہ کرناٹک ملک کی پہلی ریاست ہے، جس نے ہیڈگوار پر لکھے گئے باب کونہیں ان کی تقریر کو اسکولی نصاب میں شامل کیا ہے ۔ اس تعلیمی سیشن میں دسویں جماعت کے طلبہ اس تقریر کو پڑھیں گے ۔

ملک میں ایسی کئی ریاستیں ہیں، جہاں بی جے پی نے دہائیوں تک حکومت کی ہے۔ لیکن اب تک کسی بھی ریاست نے ہیڈگوار کی تقریر کو اسکول کے سبق میں شامل نہیں کیا تھا۔ ہیڈگوار کی تقریر جو اسکول کے نصاب میں شامل کی جارہی ہے۔ اس کا نام ہے- ’’آدرش وکتی کون ہے ؟‘ (مثالی شخص کو ن ہے ؟)

ریاستی حکومت کیا کہہ رہی ہے؟

ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے وزیر ناگیش بی سی نے بی بی سی کو بتایا، ’اب تک ہیڈگوار کی کسی بھی تقریر کو باب کے طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اگر اس مواد پر تنقید ہوتی ہے تو میں اسے سننے کے لیے تیار ہوں۔ جہاں تک بھگت سنگھ کے باب کو ہٹانے کا تعلق ہے تو اس کا کبھی سوچا تک نہیں تھا۔ کسی بھی صورت میں، اسے دوبارہ شائع ہونا ہی ہے ۔ ‘

بھگت سنگھ کے باب نہ ہٹانے کے فیصلے سے حکومت کے حوصلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرسکون مزاج والے وزیر ٹیلی ویژن چینلز پر اونچی آواز میں بولتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہونے دو۔ لیکن حکومت ہیڈگوار کی تقریر کو اسکول کے نصاب سے نہیں ہٹائے گی۔

ہیڈگوار کی تقریر کا یہ باب ان بچوں کے لیے کتاب میں شامل کیا گیا ہے جو کنڑ کو اپنی پہلی زبان کے طور پر پڑھتے ہیں۔ اس میں کئی دوسرے مسائل سے متعلق تحریریں بھی ہیں جنہیں ’بائیں بازو اور لبرل رجحانات‘ کی کمی کی وجہ سے ’نظر انداز‘ کیا گیا تھا۔

ٹیکسٹ بک ریویو کمیٹی کے چیئرمین روہت چکرتیرتھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا،’ہم نے بھگت سنگھ کے جوانی کے دنوں اور ان کی انقلابی سرگرمیوں کے بارے میں نصاب میں مزید چیزیں شامل کی ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے کی عبارت میں ان دنوں کا ذکر ہے جب وہ جوان تھے۔

لیکن ہیڈگوار کی تقریر میں ایسا کیا ہے جسے کرناٹک حکومت سلیبس میں شامل کرنے کے بارے میں جھوٹ بول رہی ہے؟

چکرتیرتھ کہتے ہیں’یہ ان کی بہت سی تقریروں میں سے ایک ہے،‘ اگرچہ اس کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ یہ ان کی تقریر ہے جو سنگھ کی تحریک کے آخری پندرہ سالوں کے دوران دی گئی تھی (ہیڈگوار کا انتقال 1940 میں ہوگیا تھا)۔ یہ تقریر دوسرے لوگوں نے نوٹ بنا کر تیار کی تھی۔

وہ کہتے ہیں ’یہ چھوٹے بچوں کے لیے بہت ضروری ہے، جو معاشرے کے مختلف حصوں سے اپنے رول ماڈل کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ کرکٹرز یا فلمی اداکاروں کو رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس عمر میں وہ بہت زیادہ کنفیوژن کا شکار ہیں۔ اس تقریر سے ان کا وژن واضح ہو جائے گا۔ رول ماڈل ان کے لیے اہم ہیں، جنہوں نے اقدار پر زندگی گزاری ہے۔ ‘

اس معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے رہنما سدارامیا نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’’ہیڈگوار نے کبھی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا۔ تو پھر طلبہ کو ایک فرقہ پرست شخص کی تقریر پڑھانے کا کیا فائدہ؟ ہم قانونی ماہرین سے مشورہ کر رہے ہیں تاکہ حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکے۔ ‘

ایک اور سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمار سوامی نے ایک ٹویٹ سیریز کے ذریعے حکومت کے اس فیصلے پر سخت حملہ کیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں، انہوں نے کہا ہے،’حجاب، حلال اور کاروبار کے مسائل اٹھانے کے بعد، بی جے پی اب اسکول کی کتابوں کے پیچھے ہے۔ ‘یہ اس کے زوال کی انتہا ہے۔‘

لیکن حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا اور سی پی آئی-ایم سے وابستہ کچھ دیگر تنظیموں کے علاوہ کسی بھی دوسری بڑی سیاسی پارٹی کے طلبہ یا نوجوان تنظیموں نے کوئی مظاہرہ بھی نہیں کیا۔

واضح رہے کہ ہیڈگوار پیشے سے ڈاکٹر تھے، وہ بنکم چندر چٹرجی اور وی ایس ساورکر کی ہندوتوا کی تشریح سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے آزادی کی تحریکوں میں حصہ لینا شروع کیا لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے قیام کے بعد وہ اس سے دور ہی رہے۔ اس دوران انہوں نے خود کو ہندو راشٹر کی تشکیل کے مقصد کے لیے ہندوؤں کو منظم کرنے تک محدود رکھا تھا۔

ہیڈگوار کی اس تقریر میں کیا ہے؟

ہیڈگوار کی اس تقریر کا عنوان ہے:’ ’ایک مثالی شخص کیسا ہو‘‘

اس کی تمہید میں کہا گیا ہے کہ ایک مثالی شخص کے طور پر ایسا شخص تلاش کرنا مشکل ہے ، جس میںکوئی خامی نہ ہو، اس لئے کسی شخص کو مثال کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایسے اصول اپنائے جائیں جن میں تبدیلی نہ ہو اور مثال کے طور پر آپ کو برقرار رکھیں۔ لیکن اس فلسفے کو عملی جامہ پہنانا اتنا ہی مشکل ہے۔

’یہی وجہ ہے کہ بت پرستی کا وجود معاشرے میں سامنے آیا۔‘

’بت کی پوجا عالمگیر قوت کی غیر محسوس نوعیت کے بارے میں شعور پھیلانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ‘

اس تقریر میں کہا گیا ہے، ’’ہم جھنڈے کو گرو کی طرح مانتے ہیں اور گروپورنیما کے دن اس کی پوجا کرتے ہیں۔ ہم جب بھی اپنے جھنڈے کو دیکھتے ہیں تو ہمارے ملک کی پوری تاریخ، ثقافت اور روایت ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ جس لمحے ہم اپنے جھنڈے کو دیکھتے ہیں، ہمارے دلوں میں جذبات ابھرتے ہیں۔ اسی لیے ہم اپنے جھنڈے کو اپنا گرو مانتے ہیں۔ ‘

’کرشن جیسی پوری شخصیت کو دیوتاؤں یا اوتاروں کے گروپ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان جیسا برتاؤ کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ شری رام اور شری کرشن کی پوجا کی جاتی ہے۔ رامائن، گیتا، مہابھارت جیسی عظیم تحریریں ان کی خوبیوں کو سمیٹنے کے لیے نہیں پڑھی جاتی ہیں۔ یہ صرف ثواب حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے (اچھے کام کے پھل کے طور پر)۔ یہ کیسی تنگ نظری ہے۔ ‘

وہ کہتے ہیں کہ’اس قسم کی تنگ نظری بھی ہمارے زوال کی ایک وجہ ہے۔‘ یہاں تک کہ چھترپتی شیواجی اور لوک مانیا تلک کو بھی اوتاروں میں شامل کیا گیا ہے۔

’’یہ ایک عجیب بات ہے کہ ہمارے عظیم آدمیوں کو دیوتاؤں کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس لیے ان کی خوبیوں کو اپنانے کی کوئی نہیں سنتا۔ مجموعی طور پر، ہم سب نے اس ہنر میں مہارت حاصل کرنے کا فن اور اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ ‘‘

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN