نئی دہلی (نامہ نگار )
جس آدمی نے جلوس نکالنے کی مخالفت کی اسی کو پریاگ راج تشدد کا ماسٹر مائنڈ بتادیا اور اس کے گھر کی خواتین کو رات میں تھانے لیے گئے جو سپریم کورٹ کی رولنگ کے خلاف ہے۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے آج یہاں پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہاں یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ جاوید محمد علاقہ کے معزز شخص ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اکھلیش یادو کی حمایت کرنے کی سزا ہمارے ارکان کو دی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر الیاس نے ان کے مکان کو مسمارکرنے کے قدم کو فاشزم سے تعبیر کیا اور اسے غیرقانونی، غیر آئینی بتایا اور کہا کہ جس ایس پی نے ان کو امن وامان کے تعلق سے میٹنگ میں بلایا ان پر ہی الزام لگا دیا۔
انہوں نے سخت لب ولہجہ میں کہا کہ بلڈوزر ٹررازم ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو لوگ بے بنیاد الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ان کو رہا کیا جائے ،جو لوگ پولیس گولی سے مارے گئے ان کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے اور جن کے مکانات مسمار کیے گئے،انہیں فوری طور پر تعمیر کیا جائے۔ ڈاکٹر الیاس نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اس سارے معاملہ کا از خود نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی خاطر ملک کے امن وسکون کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ آفرین فاطمہ کو ہراساں کیا جارہا ہے اس کے خلاف کوئی ناجائز کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔آپ نے وارننگ دی کہ اگر بلڈوزر ٹررازم کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے تو کوئی نہیں بچے گا۔









