نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی جیلوں میں زیر سماعت قیدیوں کو بغیر کسی تاخیر کے رہا نہ کرنے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اتر پردیش حکومت کے ساتھ ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ کو بھی پھٹکار لگائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے ان 853 قیدیوں کی تفصیلات دینے کو کہا ہے جو ریاست کی مختلف جیلوں میں 10 سال سے زیادہ عرصے سے بند ہیں۔ سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اسے نہیں سنبھال پا رہے ہیں تو ہم یہ بوجھ اٹھا کر سنبھال لیں گے۔ سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے کہا کہ آپ نے 853 مقدمات کا تجزیہ نہیں کیا اور آپ عدالت سے مسلسل وقت مانگ رہے ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے اب یوپی حکومت کو ان قیدیوں کی تفصیلات دینے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔








