غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے تیز ہونے اور بڑی تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی کے درمیان اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ طوفان غزہ پر مسلسل حملہ کر رہا ہے۔ اسرائیل انفراسٹرکچر کو تباہ کرتا رہے گا جب تک حماس کو شکست نہ ہو جائے اور تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کر دیا جائے۔
کاتس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ طوفان غزہ پر مسلسل حملہ کر رہا ہے۔ النور ٹاور گر گیا ہے اور غزہ کے باشندوں کو جنوب کی طرف جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل انفراسٹرکچر کو اس وقت تک تباہ کرتا رہے گا جب تک کہ حماس کو شکست نہ ہو جائے اور تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کر دیا جائے۔
**محلوں کو خالی کرایا جا رہاہے
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی (انروا ) نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ اسرائیل غزہ اور شمالی غزہ کی جبلی شہروں میں پورے محلوں کو خالی کروا رہا ہے۔انروا نے "ایکس” پر بتایا کہ غزہ شہر کا 86 فیصد سے زیادہ حصہ یا تو خالی کرانے کے حکم کے تحت ہے یا اسرائیلی فوجی زون میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس طرح شہریوں کے لیے کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں بچی ہے۔
غزہ کے مغرب میں "سکیورٹی کارروائی” کے بعد شدید جھڑپیں جاری ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کے حملوں میں شدت کے بعد غزہ میں محصور شہری بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔
**غزہ پر شدید بمبار:درجنوں شہید
اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر حملوں میں تیزی لاتے ہوئے پناہ گزین مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ غزہ میں ہفتے کی صبح سے اب تک 26 پناہ گاہیں تباہ ہوچکی ہیں۔مسلسل بمباری کے نتیجے میں 74 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سات افراد ایسے بھی شامل ہیں جو جنوبی اور وسطی غزہ میں امدادی سامان کے منتظر تھے۔اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ "غزہ پر طوفان جاری ہے”۔ ایکس پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ "برج النور گر چکا ہے اور غزہ کے شہریوں کو زبردستی جنوب کی طرف نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک حملے جاری رکھے گا جب تک "حماس کو جھکنے پر مجبور نہ کر دے اور تمام قیدیوں کو رہا نہ کرایا جائے”۔











