لکھنؤ:(نامہ نگار)
جمعیۃ علماء ہند (اے) کے ریاستی صدر مولانا اشہد رشیدی نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھ کر پارٹی کے ذریعہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی نوپورشرما اور نوین جندل کے خلاف کارروائی کو اچھا قدم بتاتے ہوئے احتجاج ومظاہرے میں شامل نوجوانوں کو چھوڑنے اور بلڈوزر کارروائی پر روک لگانے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جب تک گستاخی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی نہیں ہو گی اس وقت پورا معاملہ پرسکون نہیں ہوگا ۔
مولانا ارشد رشیدی کی طرف سے اتوار کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’میں آپ کی توجہ اتر پردیش کی موجودہ صورتحال کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ صرف اترپردیش ہی میں نہیں بلکہ پورے ملک اور دنیا کے کونے کونے میں پیغمبر محمد ؐ کی شان میں گستاخی کی وجہ سے غم وغصہ ہے ، اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بی جے پی نے ایک اچھا قدم اٹھاتےہوئے دونوں قصورواروں کو پارٹی سے باہر کر دیا ہے، مگر جب تک ان کے خلاف ہندوستانی آئین کے مطابق قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، اس وقت تک عوام کا غصہ ختم نہیں ہوگا۔ مکمل طور پر پرسکون نہیں ہوپائے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ جمعیۃ علماء کی طرف سے ہر قسم کی وضاحتوں اور زبانی و تحریری پابندیوں کے باوجود مختلف اضلاع میں نماز جمعہ کے بعد کیا ہوا اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ جو کہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے کیونکہ قانون ہاتھ میں لے کر کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی لیکن اس کے بعد جس طرح پولیس گرفتاریاں کر رہی ہے، گھروں کو مسمار کر رہی ہے اور مار پیٹ کی جا رہی ہے، وہ بھی ناانصافی، قابل مذمت اور آئین کے خلاف ہے۔ جس کی وجہ سے ماحول میں مزید تناؤ اور ہیجان پھیل رہا ہے۔ اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ
1- گرفتار نوجوانوں کو فوری رہا کیا جائے۔
2- ان کے خلاف مقدمہ نہ چلایا جائے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔
3- مکانات گرانے کا پروگرام فوری بند کیا جائے۔
4- مزید گرفتاریاں نہ کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی مولانا رشیدی نےملک میں امن وامان کے ساتھ سی ایم یوگی کو بھی اپنی دعاؤں سے نوازا ۔









