بنگلورو :(ایجنسی)
پولیس نے جمعہ کو دلت کارکن ہروہلی رویندرا کو میسور سے 5 سال قبل سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ کے لیے گرفتار کیا۔ رویندر نے یہ سوشل میڈیا پوسٹ ہندو دیوی دیوتاؤں کی مبینہ توہین کے لیے کی تھی۔
رویندر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں2 سال کی جیل ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ادا کرنا پڑسکتا ہے ۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق ایک مقامی عدالت نے اس معاملے میں رویندر کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔ تفتیش کاروں نے اس معاملے میں چارج شیٹ پیش کی تھی اور کہا تھا کہ ملزم مفرور ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ رویندرا کو 2019 میں نوٹس بھیجا گیا تھا لیکن وہ ابھی تک عدالت میں پیش نہیں ہوا تھا، اس لیے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
چکوڑی پولیس نے رویندر کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ اس معاملے میں قانون کے ذریعے طے شدہ طریقہ کار پر پوری طرح عمل کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے میں ہندو کارکن چندر شیکھر باپو منڈے نے رویندر کے خلاف 2017 میں شکایت درج کرائی تھی۔ اس کے علاوہ سماگرا کرناٹک رکشا ویدیکے نے بھی رویندر کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ رویندر نے میسور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے اور وہ مصنف بھی ہیں۔
دوسری جانب کانگریس کے سینئر لیڈر بی کے ہری پرساد نے رویندر کی حمایت میں ٹویٹ کیا ہے۔ ہری پرساد نے کہا ہے کہ فاشسٹ حکومت کی طرف سے جگنیش میوانی اور رویندر جیسے نوجوان لیڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ رویندر کو فوری رہا کیا جانا چاہئے۔










