لکھنؤ :(ایجنسی)
ملک میں ہندی زبان کو لے کر تنازع جاری ہے۔ اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے وزیر سنجے نشاد نے کہا کہ جن لوگوں کو ہندی پر اعتراض ہے وہ ملک چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا،’ہندوستان ان لوگوں کے لیے جگہ نہیں ہے جو ہندی نہیں بولتے، انہیں اس ملک کو چھوڑ کر کہیں اور جانا چاہئے۔‘
کچھ دن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی کہا تھا کہ مختلف ریاستوں کے لوگوں کو ہندی میں بات کرنی چاہیے۔
ہندوستان کی رپورٹ کے مطابق نشاد نے کہاکہ جو بھارت میں رہنا چاہتے ہیں انہیں ہندی سے پیار کرنا ہوگا۔ اگر آپ کو ہندی پسندنہیں ہے تو یہ مان لیا جائے گا کہ آپ غیرملکی ہیں یا غیر ملکی طاقتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم علاقائی زبانیں بولتے ہیں۔ لیکن یہ ملک ایک ہے اور ہندوستان کا آئین کہتا ہے کہبھارت’’ہندوستان‘ ہے، جس کا مطلب ہندی بولنے والوں کی جگہ ہے۔
نشاد پارٹی کے قومی صدر سنجے نشاد نے کہا کہ’میں تمام علاقائی زبانوں کا احترام کرتا ہوں لیکن قانون کے مطابق ہندی قومی زبان ہے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا سیاستدان ہو یا طاقتورکیوں نہ ہو۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ ہندی کی مخالفت کر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔










