گواہاٹی( ایجنسی) آسام کے ایک مدرسے کو جمعرات کو سیل کر دیا گیا۔ لڑکیوں کے ایک اور مدرسے پر بھی کارروائی جاری ہے۔ آسام پولیس کا دعوی ہے کہ مشکوک لوگ مبینہ طور پر سیل کیے گئے مدرسے میں مقیم تھے۔ اس لیے کارروائی کی گئی ہے۔خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق آسام پولیس نے کچھ دہشت گرد تنظیموں سے مبینہ تعلق کے الزام میں 11 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں مفتی مصطفیٰ بھی شامل ہیں جنہیں پولیس نے ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ ریاست کے اسپیشل ڈی جی پی مسٹر جی پی سنگھ نے کہا کہ ملزمان کو موری گاؤں، بارپیٹا، کامروپ (میٹرو) اور گولپارہ اضلاع سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ڈی جی پی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق اسلامی بنیاد پرستی سے ہے، جن کے برصغیر میں القاعدہ (AQIS) اور ABT (انصار اللہ بنگلہ ٹیم) جیسی عالمی دہشت گرد تنظیموں سے روابط ہیں۔ گرفتار مفتی پر دہشت گردی کی فنڈنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔ شک کی بنیاد پر ہم نے ایک مدرسہ کو سیل کر دیا کیونکہ وہاں کچھ لوگ چھپے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سہریاگاؤں، موریگاؤں میں جامع الہدیٰ مدرسہ کو سیل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار شدگان سے کئی الیکٹرانک آلات اور مجرمانہ دستاویزات ضبط کی گئی ہیں۔دو دن قبل آسام سے تعلق رکھنے والے اختر حسین (24) کو ایک دہشت گرد گروپ سے مبینہ تعلق کے الزام میں بنگلورو میں گرفتار کیا گیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ آسام کے سی ایم ہمانتا بسوا سرما نے بھی میڈیا کو یہ اطلاع دی۔









