میرٹھ :(ایجنسی)
ایودھیا پر کتاب خریدنے کی سفارش کو لے کر میرٹھ یونیورسٹی میں تنازع ہوگیا ہے۔ میرٹھ یونیورسٹی کا دوسرا نام چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ ہے لیکن یہ میرٹھ یونیورسٹی کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔
میرٹھ یونیورسٹی نے اپنے الحاق شدہ کالجوں کو ایودھیا پر کتاب پڑھانے اور خریدنے کی سفارش کی ہے۔ تاہم، رجسٹرار دھریندر کمار ورما نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے صرف کتاب خریدنے پر غور کرنے کو کہا تھا۔ میرٹھ یونیورسٹی سے منسلک کالجوں کو جاری کردہ ایک سرکلر میں، اس کے رجسٹرار دھریندر کمار ورما نے ملحقہ کالجوں اور دیگر اداروں کے سربراہوں سے کہا کہ وہ ’ایودھیا-روایت، ثقافت، وراثت ‘ نامی کتاب خریدنے پر غور کریں۔ اس کتاب کے مصنف یتندرا مشرا نے لکھے ہیں۔ یہ کتاب آن لائن 6000 روپے میں دستیاب ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ سرکلر میرٹھ یونیورسٹی کی وی سی سنگیتا شکلا کی جانب سے کالجوں کو بھیجا گیا تھا۔
سرکلر میں کہا گیا، ’یہ کتاب ہندی اور سنسکرت زبانوں میں دستیاب ہے… اس میں نایاب تصاویر کا مجموعہ ہے… یہ کالجوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوگی، لہٰذا کتاب خریدنے پر غور کریں۔‘
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی اس کتاب کو الحاق شدہ کالجوں میں پڑھانے کے لیے بھی طے کرنے پر غور کر رہی ہے۔ میرٹھ یونیورسٹی سے مغربی یوپی تک سیکڑوں الحاق شدہ کالج ہیں۔ کالجوں سے کتابیں خریدنے کے لیے کہنے پر اپوزیشن جماعتوں نے یونیورسٹی کی کھینچائی کی ہے۔ میرٹھ میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایک سینئر لیڈر نے کہا، یہ شرمناک ہے کہ یونیورسٹی، جو کہ اعلیٰ تعلیم کا مرکز ہے، مذہبی کتاب کا پرچار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس کے ایک مقامی کارکن نے بھی یونیورسٹی پر تنقید کی۔ کانگریس لیڈر نے کہا، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آر ایس ایس کے کارکنوں کو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر مقرر کیا جاتا ہے۔









