الٰہ آباد :(ایجنسی)
پریاگ راج میں جمعہ کی نماز کےبعد فساد کرنے والوں کی تلاش میں پوسٹر لگائے جائیں گے۔ پولیس یہ تصاویر سی سی ٹی وی فوٹیج ، سروس لائنس کیمرے اورلوگوں سے ملے ویڈیوسے اکٹھا کرے گی۔ فساد کرنے والوں کی پہچان ہونے کے 4 دن بعد بھی ان کا پتہ نہیں چلا ہے۔ ان کی دھڑ پکڑ کے لئے پولیس ان کےپوسٹر لگانے کی تیاری کررہی ہے ۔
وہیں، پریاگ راج تشدد کے ماسٹر مائنڈ محمد جاوید عرف جاوید پمپ کے 2 منزلہ مکان کو اتوار کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا۔ جاوید کی بیٹی نے اس کارروائی کو غلط قرار دیا۔ جاوید پمپ کی بیوی پروین فاطمہ نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جاوید کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ مکان ان کے نام پر تھا۔ یہ گھر اسے ان کے والد نے شادی سے پہلے بطور تحفہ دیا تھا جس میں جاوید کی ملکیت نہیں ہے۔ پھر بھی ان کو نوٹس دیا گیا۔ انتظامیہ نے اس گھر کو گرا دیا۔ پورے معاملے میں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اس گھر کو بنانے کے لیے نقشہ پاس نہیں کرانے کی بات کہہ رہی ہے ۔
تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے سے ہوگی نقصان کی بھرپائی
آئی جی پریاگ راج رینج ڈاکٹر راکیش کمار سنگھ کے مطابق پریاگ راج تشدد میں کئی مقامی لوگوں کے مکانات اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ لوگ خود پولیس اسٹیشن جا کر ایف آئی آر درج کروا سکتے ہیں۔ شرپسندوں سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ پریاگ راج کے کریلی اور خلد آباد تھانوں میں اب تک 5 ایف آر آئی درج کی جاچکی ہے۔
تشدد کے معاملے میں اب تک 92 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 95 کے قریب نامزد اور 5 ہزار سے زائد نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ان میں سے 92 ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ اٹالہ مسجد کے امام سمیت 67 ملزمان کو بھی جیل بھیج دیا گیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے شناخت کیے گئے ملزمان کے پوسٹرز 2 روز میں جاری کیے جائیں گے
پولیس نے اٹالہ، نوراللہ روڈ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، میڈیا والوں کے ذریعہ لی گئی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر شرپسندوں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب ان کی تصویر نکال کرپولیس پوسٹر جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پولیس دو دن میں یہ پوسٹر جاری کرے گی۔
دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں ایک بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اٹالہ تشدد میں باہر سے کرائے کے شرپسندوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ پولیس کو اس بات کا علم سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہوا جس میں دکھایا گیا ہے کہ تشدد سے پہلے بڑی تعداد میں شرپسند اٹالہ علاقے میں ایک پٹرول پمپ پر جمع ہوتے ہیں اور پٹرول خریدتے ہیں۔ شرپسندوں میں ناشتے کے پیکٹ بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تحقیقاتی ایجنسیوں کو باہر سے فنڈنگ کے پختہ ثبوت ملے ہیں۔









