نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی کے قطب مینار کمپلیکس میں اب نماز نہیں پڑھی جاسکے گی۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے سختی سے وضاحت کی ہے کہ قطب مینار ایک بے جان یادگار ہے۔ اس کے احاطے میں کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمیوں کے لیے پہلے سے ہی منع ہے۔ اے ایس آئی نے آج ساکیت کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ میں بھی یہ بات کہی ہے۔
ساکیت عدالت میں داخل حلف نامہ میں عدالت نے کہا ہے کہ قطب مینار ایک غیر جاندار یادگار ہے اور کوئی بھی مذہب اس پر عبادت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ AMASR ایکٹ 1958 کے تحت کسی بھی غیر جاندار عمارت میں عبادت شروع نہیں کی جا سکتی۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی 27 جنوری 1999 کے اپنے حکم میں یہ کہا ہے۔
اے ایس آئی حکام کے مطابق ملک بھر میں ایسی لاتعداد بے جان یادگاریں ہیں، جہاں پوجا،پاٹھ اور نماز کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجود قطب مینار احاطے میں نماز ادا کی جا رہی تھی۔ اب یہاں نماز پڑھنے والوں کو منع کر دیا گیا ہے۔ یہاں پانچ دنوں سے نمازپر پابندی ہے۔
اے ایس آئی حکام کے مطابق کچھ لوگ بغیر کسی علم کے قطب مینار کے احاطے میں نماز پڑھنے پر اصرار کر رہے تھے، ایسے لوگوں سے اجازت نامہ یا اس سے متعلق دستاویزات مانگے گئے تھے۔ وہ کوئی دستاویزات نہیں دکھا سکے۔ انہیں واپس بھیج دیا گیا۔
اے ایس آئی حکام نے واضح کیا ہے کہ اے ایس آئی کے ذریعہ محفوظ میموریل سائٹ پر مذہبی سرگرمیوں کی قانونی طور پر اجازت نہیں ہے۔ جب تک اے ایس آئی نے کسی کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا اور بات تھی لیکن جب اے ایس آئی نے فیصلہ کر لیا تو پھر یہاں مذہبی سرگرمیاں کرنا ناجائز ہے۔ پولیس ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اس سے قبل اے ایس آئی نے فیروز شاہ کوٹلہ یادگاری مقام پر نماز پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔









