ہر پولیس مقابلے کی ایک ہی کہانی ہوتی ہے۔ پولیس نے ملزمان کو ہتھیار ڈالنے کی تنبیہ کی لیکن ملزمان نے پولیس پر جوابی فائرنگ کی جس کے بعد پولیس کو اپنے دفاع میں فائرنگ کرنا پڑی اور اس فائرنگ میں ملزم مارا گیا۔ پولیس نے یہی کہانی اس وقت سنائی جب جھانسی میں گینگسٹر عتیق احمد کے بیٹے اسد احمد اور عتیق کے قریبی ساتھی غلام کے درمیان انکاؤنٹر ہوا۔ ترنمول کانگریس ایم پی مہوا موئترا نے تاہم جھانسی انکاؤنٹر کو یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے جنگل راج سے جوڑا ہے۔ یوگی نے ماضی میں کہا تھا کہ وہ مجرموں کو خاک میں ملا دیں گے، مہوا موئترا جیسے لوگوں کا سوال ہے کہ جب ہمیں خود فیصلہ سنانا ہے تو ہمیں عدالت کی کیا ضرورت .
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، انکاؤنٹر کی تفصیلات بتاتے ہوئے، اے ڈی جی پی لاء اینڈ آرڈر نے کہا کہ ڈی ایس پی رینک کے دو افسران کی قیادت میں 12 افراد کی ایک ٹیم نے آپریشن کیا۔ جھانسی کے بابینا روڈ پر انکاؤنٹر کے دوران کل 42 راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ انکاؤنٹر کے بعد وہاں بھیڑ جمع ہوگئی۔ اس کے بعد دونوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا گیا۔
جھانسی میں انکاؤنٹر اس دن ہوا جب عتیق احمد کو امیش پال قتل کیس میں پریاگ راج کی عدالت میں پیش کیا گیا اور اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔عتیق کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ یوپی پولیس نے اسے چن چن کر انکاؤنٹر میں ماررہی ہے . عتیق احمد نے خود بھی یہی الزام لگایا تھا۔ عتیق نے کل ہی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ میڈیا کی وجہ سے بچ گیا ہے، ورنہ یوپی پولس اس کابھی انکاؤنٹر کردیتی۔
اب تک پولیس عتیق سے وابستہ وجے چودھری، ارباز، اسد اور غلام کو انکاؤنٹر میں مار چکی ہے۔ ابھی اس کیس میں گڈو مسلم، ارمان اور صابر رہ گئے ہیں۔ یہ سبھی امیش پال قتل کیس کے ملزم ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ گڈو مسلم راجستھان میں چھپا ہوا ہے اور یوپی پولیس راجستھان میں اس کو تلاش کر رہی ہے۔ یعنی اس کے انکاؤنٹر کی خبر بھی کسی وقت آسکتی ہے۔
جہاں اکھلیش یادو (ایس پی) اور مایاوتی (بی ایس پی) نے جھانسی انکاؤنٹر کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا، ٹی ایم سی کی ایم پی نے اسے یوگی کا جنگل راج قرار دیا۔ آج تک نے مہوا موئترا کے حوالے سے کہا کہ میں حیران نہیں ہوں، یہ مکمل افراتفری ہے۔ یہ جنگل راج یا ثقافت کی ایک قسم ہے۔ جب آپ کے پاس ایسا وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ہو کہ اگر آپ دھکا دیں تو گاڑی الٹ سکتی ہے… تو یہ سب کچھ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ مہوا کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ اب یوپی میں عدالت کی ضرورت نہیں ہے۔








