نئی دہلی (ایجنسیاں)سپریم کورٹ میں الیکٹورل بانڈز پر سماعت کے دوران ایس بی آئی کے تمام دلائل ناکام ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کل یعنی 12 مارچ تک مکمل تفصیلات دینے کا حکم دیا ہے۔ وہیں الیکشن کمیشن کو 15مارچ تک ان تفصیلات کو اپنی ویب سائٹ پر دینے کی ہدایت بھی جاری کی اس سے پہلے ایس بی آئی نے سپریم کورٹ سے وقت دینے کی درخواست کی تھی۔مگر اس نے الٹا سوال کیا کہ جو وقت آپ کو دیا تھا اس دوران کیا کیا ۔اس فیصلہ کو مودی سرکار اور بی جے پی کے لئے بہت ہی بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے وہ بھی عام انتخابات کے موقع پر
دریں اثنا ایس بی آیئ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پوچھا کہ آخر اسے الیکٹورل بانڈ کے اعداد وشمار یکجا کرنے اور اس کی تفصیلات دینے میں کیا دشواری پیش آ رہی ہے۔ عدالت نے ایس بی آئی کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر الیکٹورل بانڈ کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ایس بی آئی سے سوال کیا کہ گزشتہ 26 دنوں کے دوران آپ نے کیا کیا؟ اس پر ایس بی آئی نے کہا کہ ہمیں تفصیلات دینے میں کوئی دقت نہیں ہے لیکن تھوڑا وقت دیا جائے۔
اس سے پہلے سماعت کے دوران، سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے، ایس بی آئی کی طرف سے پیش ہوئے، معلومات دینے کے لیے 30 جون تک کا وقت مانگا۔ سماعت کے دوران سالوے نے کہا کہ عدالت نے ایس بی آئی کو بانڈز کی خریداری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے جس میں خریداروں کے بارے میں معلومات کے ساتھ ساتھ بانڈز کی قیمت بھی شامل ہے۔
سالوے نے سماعت کے دوران کہا کہ اس کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کی تفصیلات اور فریقین کو ملنے والے بانڈز کی تعداد بھی بتانی ہوگی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ معلومات نکالنے کے لیے پورے عمل کو الٹنا ہوگا۔ ایس او پی کے تحت اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ بانڈ کے خریدار اور بانڈ کی معلومات کے درمیان کوئی ربط نہ ہو۔ ہمیں بتایا گیا کہ اسے راز میں رکھنا چاہیے۔ بانڈ کے خریدار کا نام اور خریداری کی تاریخ کوڈ کیا گیا ہے، جسے ڈی کوڈ کرنے میں وقت لگے گا۔
اس پر چیف جسٹس نے ایس بی آئی سے کہا کہ ’’آپ ہمیں بتائیں کہ 26 دنوں سے آپ کیا کر رہے تھے؟‘‘ اس کے بعد جسٹس کھنہ نے کہا کہ ’’آپ خود اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ آپ کو تفصیلات دینے میں کوئی دشواری نہیں ہے، تو ان 26 دنوں میں کافی کام ہو سکتا تھا۔‘‘ عدالت نے ایس بی آئی سے کہا کہ وہ الیکٹورل بانڈ کے بارے میں فوری طور پر الیکشن کمیشن کو معلومات فراہم کرے۔ چیف جسٹس چندر چوڑ نے ایس بی آئی کو حکم دیا کہ وہ 12 مارچ تک انتخابی بانڈ سے متعلق تمام معلومات الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔ اس میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی بانڈ کی نقدی کے بارے میں معلومات بھی شامل ہونی چاہیے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایس بی آئی سے پوچھا کہ ’’ اب تک آپ نے کیا کیا؟‘‘ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوئی، جسٹس منوج مشرا کی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران ایس بی آئی نے کہا کہ ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنے میں وقت لگے گا۔ ایس بی آئی کے وکیل ہریش سالوے نے اس کے لیے مزید وقت طلب کیا۔ جسٹس کھنہ نے ایس بی آئی کے وکیل ہریش سالوے سے کہا کہ ’’سیاسی پارٹیوں نے بانڈ کو کیش کرنے سے متعلق معلومات دے دی ہے۔ آپ کے پاس پہلے سے ہی تفصیلات موجود ہیں۔‘‘ اس پر سالوے نے کہا کہ ’’براہ کرم ہمیں ڈیٹا یکجا کرنے کے لیے کچھ وقت دیں۔‘‘ اس کے فوراً بعد چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ’’اب ہم اس معاملے میں حکم دیں گے۔‘
سینئر وکیل کپل سبل نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی طرف سے انتخابی بانڈ کی تفصیلات دینے کے لیے مزید وقت طلب کرنے کی درخواست اور اس کی وجوہات کو بچگانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے وقار کی حفاظت کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے اور جب آئینی بنچ پہلے ہی اپنا فیصلہ دے چکی ہے تو ایس بی آئی کی عرضی کو قبول کرنا ’آسان نہیں ہوگا‘۔ واضح رہے کہ انتخابی بانڈ اسکیم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی گزاروں کے دلائل کپل سبل نے پیش کیے۔کپل سبل نے کہا کہ ایس بی آئی کا یہ دعویٰ کہ ڈیٹا کو یکجا کرنے میں کئی ہفتے لگیں گے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ کوئی کسی کو بچانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ایس بی آئی کا ارادہ حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہے، بصورت دیگر بینک انتخابی بانڈ کی تفصیلات دینے کے لیے 30 جون تک ایسے وقت توسیع کی درخواست نہیں کرتا جب انتخابات اپریل-مئی میں ہونے والے ہیں۔(فوٹو :انڈیا ٹوڈے)










