نئی دہلی: پاکستان سے ہندوستان آنے والی سیما حیدر کے حوالے سے اب ایک اور نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی خاتون سیما حیدر نے یوپی اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ میں انکشاف کیا کہ اس نے کبھی بھی سوشل میڈیا پر اپنی شناخت سیما حیدر کے نام سے ظاہر نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق سیما نے بتایا کہ وہ جب بھی پب جی گیم کھیلتی تھی تو اس نے اپنی شناخت کسی اور نام سے بنائی تھی تاکہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہو اور وہ نام مریم خان تھا۔ کیونکہ سیما نے دعویٰ کیا کہ انہیں ڈر ہے کہ پاکستان میں اس طرح شناخت ہونے کے بعد ان کے ساتھ برا سلوک ہو سکتا ہے۔
سیما نے بتایا کہ ان کے کچھ جاننے والوں نے انہیں مریم خان کے طور پر اپنی شناخت استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ یوپی اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ میں سیما نے بتایا کہ وہ رات 9 بجے کے بعد دیر رات تک پب جی گیم کھیلتی رہتی تھی-
ادھرسیما حیدر کاکہناہے کہ اس کو حراستی مراکز سے لے کر ہندوستان کی جیلوں تک میں رہنا منظور ہے لیکن وہ کسی بھی قیمت پر پاکستان واپس نہیں جانا چاہتی! اے ٹی ایس کے سوالات کا جواب دینے کے دو دن بعد سچن کے گھر واپس آنے والی سیما کا کہنا ہے کہ اگر اسے پاکستان واپس بھیجا گیا تو اسے مار دیا جائے گا!
سیما حیدر نے نیپال کے پشوپتی ناتھ مندر میں ہی عاشق سچن سے شادی کرنے کا اعتراف کر لیا۔ پاکستانی خاتون سے جب پوچھا گیا کہ پشوپتی ناتھ مندر میں پجاری نے کسی قسم کی شادی سے انکار کیا ہے؟ تو اس کے جواب میں سیما نے کہا کہ اس کی شادی سچن سے مندر کے پچھلے حصے میں ہوئی ہے، کیونکہ سامنے کافی بھیڑ تھی۔
سیما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جے مالا پہننے اور مانگ میں سندور بھرنے کی ویڈیو ریکارڈ نہیں کی جا سکتی اس لیے اس شادی کا ثبوت نہیں دے سکتی لیکن ہاں، شادی نیپال کے کسی ہوٹل میں نہیں بلکہ مندر میں ہوئی۔یہ سوال کرنے پرکہ اگرپاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے کیا کریں گی؟ اس کے جواب میں سیما حیدر نے کہا ’’مجھے یوگی جی (وزیر اعلیٰ یوپی) اور مودی جی (وزیر اعظم) پر بھروسہ ہے۔ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ میری یہاں (ہندوستان) زندگی ہے اور وہاں (پاکستان) موت ہے۔










