اردو
हिन्दी
جولائی 27, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ذاکر نائک پاکستانی سماج میں جھگڑے کرانے آئے ہیں؟

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
209
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

جائزہ:وجاہت مسعود
(نوٹ:متنازع مبلغ ذاکر نائک ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں انہوں نے اپنے بعض بیانوں سے ہلچل مچادی ہے،جن پر لگاتار تنقید ہورہی ہے پڑوسی ملک کی یہ تحریر  اس کا اظہار ہے،اسے ایک نکتہ نظر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے  -ادارہ)
نامعلوم کس عبقری نے مذہبی خطیب ذاکر نائیک کو پاکستان کے طویل دورے کی دعوت دی ہے۔ ذاکر نائیک صاحب اب سے کچھ عرصہ قبل بھارت میں اپنی ٹیلی ویژن تقریروں کی مدد سے مقبول ہوئے تھے۔ مختلف مذاہب کی مقدس کتب اور تعلیمات میں تقابل کی مدد سے اپنے عقائد کی تبلیغ ذاکر نائیک صاحب کا تخصص ٹھہرا۔ میں اسے تقابل ادیان قرار دینے میں مشکل محسوس کرتا ہوں۔ تقابل ادیان ایک سنجیدہ علمی مشق ہے جس میں مختلف مذاہب کی تعلیمات اور تاریخی ارتقا کی مدد سے انسانی عقائد کے تنوع نیز مشترک نکات پر غور و فکر کیا جاتا ہے۔ تقابل ادیان کے مستند علما کے ہاں تمام مذاہب اور ان کے پیروکاروں کا احترام ایک بنیادی جزو رہا ہے۔ اس کے بالمقابل مناظرے کی صدیوں پرانی روایت بھی موجود ہے جس میں مذہبی درس گاہوں میں تعلیم پانے والے پیشوائوں کو مخالف مذہبی عقائد اور روایات کی تغلیط کے دائو پیچ سکھائے جاتے تھے۔ یورپ میں اصلاح مذہب کی تحریک کے دوران اس شعبے کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ خود ہمارے خطے میں انیسویں صدی میں مسیحی پادریوں کی آمد نیز مذہبی طور پر غیر جانب دار نو آبادیاتی حکومت قائم ہونے کے بعد ہندو مسلم پیشوائوں میں مناظرے کی روایت نے زور پکڑا۔
روایتی طور پر ہندوستان میں مسلم عقائد کی تبلیغ کرنے والے صوفیائے کرام نے رواداری اور باہم احترام کی مدد سے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ اسی ہندوستان میں بھگت کبیر کی روایت بھی موجود رہی ہے۔ پنجاب میں سکھ اور مسلم علما میں رواداری کا یہ عالم رہا ہے کہ متعدد سکھ عبادت گاہوں کی تعمیر میں مسلم صوفیا شامل رہے ہیں۔ امرتسر کے گوردوارہ ہرمندر صاحب کی بنیاد میاں میر نے 1588ء میں رکھی تھی۔ سندھ میں امرکوٹ کے مندر نیز خیرپور اور بھٹ شاہ میں مسلم صوفیا کی درگاہیں مذہب و ملت کے امتیاز کے بغیر انسانی رواداری کا نشان رہی ہیں۔ اس کے برعکس مناظرے نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں تلخی اور مخاصمت کو جنم دیا۔ مولانا رزاق ملیح آبادی نے مولانا محی الدین ابوالکلام آزاد کی ابتدائی عمر کے جو سوانح لکھے ہیں ان میں مناظرے کی ثقافت کا سبق آموز نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ذاکر نائیک صاحب کے طرز خطابت سے ایسا ہی نتیجہ نکلنا ناگزیر تھا۔ انہیں ہندوستان سے نکل کر ملائیشیا میں پناہ لینا پڑی۔ برطانیہ اور بنگلہ دیش سمیت خود ملائیشیا کی متعدد ریاستوں میں ان کے ٹیلی ویژن چینل پر پابندیاں عائد ہیں۔ ان پر کچھ مالی الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں جن کی غیر جانب دار تصدیق یا تردید ممکن نہیں۔ پاکستان میں ذاکر صاحب کے بہت سے مداح موجود ہیں لیکن انہوں نے پاکستان میں بہت سے ایسے موضوعات پر خیال آرائی کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مزاج میں خود سے اختلاف رائے رکھنے والوں کے لیے حساسیت کی کمی ہے اور غالباً وہ پاکستان کے معاشرتی تار و پود سے بھی کچھ زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔ راولپنڈی کی بچیوں سے لے کر خواتین اینکروں تک ذاکر نائیک صاحب نے جو بیانات دیے نیز عورت کی حکمرانی کے بارے میں جو رائے دی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 59سالہ ذاکر نائیک شاید نہیں جانتے کہ وہ جس برس میں پیدا ہوئے تھے اس برس پاکستان کی ایک قابل احترام بزرگ خاتون ڈکٹیٹر کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہی تھیں۔ ذاکر نائیک آداب مہمانی کا یہ بنیادی اصول نہیں جانتے کہ میزبان ملک کے سیاسی بندوبست پر رائے زنی نہیں کی جاتی۔ ذاکر صاحب نے سندھ کے گورنر ہائوس میں فرمایا کہ ’پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ یہاں قرآن کا قانون ہونا چاہیے‘۔ ذاکر نائیک نہیں جانتے کہ پاکستان کا ایک تحریری آئین ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بن سکتاانہیں جاننا چاہیے کہ پاکستان کے دستور میں شق 25کے تحت تمام شہریوں کو مساوی درجہ دیا گیا ہے۔ اسی دستور کی شق 20میں ہر شہری کو عقیدے کی آزادی کا حق دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی معلومات، اچھی یادداشت اور برجستہ مکالمے کی عکاس تو ہو سکتی ہیں لیکن مذہبی اور سیاسی امور میں ذاکر نائیک صاحب کا علم سند کا درجہ نہیں رکھتا۔ انہیں انسانوں کو اپنے دین کی دعوت دینے کا حق ہے لیکن انہیں پاکستان کے سیاسی، قانونی اور معاشرتی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرنا چاہئے

ٹیگ: ذاکر نائیک ، پاکستان ، پاکستانی، اسلامک اسکالر

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN