ہندی اخبار جن ستا میں لکھے اپنے مضمون میں تولین سنگھ نے 1980 کی دہائی میں خالصتان کی جدوجہد کی یاد دلائی ہے۔ لندن کے پیڈنگٹن اسٹیشن پر جگجیت سنگھ چوہان سے ملاقات اور خالصتان کے جعلی پاسپورٹ کی یاد دلاتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ تب بھی خالصتان کو پنجاب میں کوئی حمایت حاصل نہیں تھی۔جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے حامی بھی گولڈن ٹیمپل تک محدود تھے۔ ان کے باہر خالصتان کا کوئی حامی نہیں تھا۔ آج بھی امرت پال سنگھ کے حامی ہیں لیکن خالصتان کے نہیں۔ اس کے باوجود میڈیا بغیر ثبوت کے امرت پال سنگھ کو آئی ایس آئی کا حامی کہہ کر خالصتان کو ہوا دینے کا کام کر رہا ہے۔ حکومت کا رویہ بھی سوالیہ نشان ہے۔
جب سے امرت پال سنگھ نے اپنے حامی کو تھانے سے بچایا ہے، تب سے اسے خالصتانی کہا جاتا ہے۔ امرت پال نے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ سیکھی اور خالصہ پنتھ کو مضبوط کرنا چاہتا ہی۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا بھی شروع میں ناراض تھاکیونکہ پولیس نے اس کے لوگوں کو مارا پیٹا اور جیلوں میں ڈال دیا۔
پھر اگر اس سے مذاکرات ہوتے، سیاست میں جگہ دی جاتی تو شاید حالات سنگین نہ ہوتے۔ آج بھی بغیر سوچے سمجھے امرت پال کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ امرت پال کے باپ نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے امرت پال کو اس کے گھر سے گرفتار کیوں نہیں کیا؟ امرت پال کو بھاگنے کا موقع کیوں دیا گیا؟ مصنف کا خیال ہے کہ اگر حکومت کے قاصد امرت پال سے بات کرتے تو بہتر ہوتا۔ یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں
(بشکریہ:جن ستا)








