نئی دہلی :(ایجنسی)
سپریم کورٹ نے ججوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ ججوں پر الزامات لگانا ان دنوں ایک نیا فیشن بن گیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ مہاراشٹر اور اتر پردیش میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا، ’جج جتنے مضبوط ہوں گے، الزامات اتنے ہی کم ہوں گے۔‘
عدالت عظمیٰ نے یہ تبصرہ ایک ایسے معاملے میں کیا جس میں اس نے مدراس ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا جس میں ایک وکیل کو توہین کا مرتکب پایا گیا اور اسے 15 دن کی قید کی سزا سنائی گئی۔ جیل کی سزا برقرار رکھتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وکلا قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو انہیں بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے پیر کو کہا کہ پورے ملک میں ججوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ضلعی ججوں کے پاس کوئی سیکورٹی نہیں ہے، بعض اوقات تو لاٹھی چلانے والا پولیس والا بھی دستیاب نہیں ہوتا ہے۔
ملزم وکیل کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے، عدالت نے کہا، ’ایسے وکلاء عدالتی عمل پر دھبہ ہیں اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔‘ جسٹس چندرچوڑ نے کہا،’جج نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا۔ وہ ہائی کورٹ کے قریب چائے کے اسٹال پر تھے، جب 100 وکلاء نے ان کی توڑ پھوڑ کی اور غیر ضمانتی وارنٹ پر عمل درآمد سے روک دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج ہے… اور اس سے بھی بدتر، جب معاملہ واپس آیا تو انہوں نے جسٹس پی ٹی آشا کے خلاف الزامات لگائے۔‘
جیسا کہ این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا، جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ کچھ ہائی کورٹس کے ججوں کو کھلے عام دھمکیاں دینا ایک عام بات ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ وہ کہتے ہیں ، میرے خلاف ایک غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کی ہمت کیسے ہوئی ۔‘
جسٹس چندر چوڑ نے کہا’آپ بے بنیاد الزامات نہیں لگا سکتے۔ تصور کریں کہ 100 وکلاء جمع ہیں۔ وکلاء بھی قانون کے عمل کے تابع ہیں۔ اب، ممبئی، اتر پردیش اور چنئی میں بڑے پیمانے پر ججوں کے خلاف الزامات لگانا ایک نیا فیشن بن گیا ہے۔









