بھوپال:
مدھیہ پردیش کے سنگرولی ضلع میں دل کوجھنجھور دینے والی تصویر سامنے آئی ہے۔ یہاں ایک باپ کواپنی بیٹی کی لاش چارپائی پر لے کر 35 کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ گڈ گورننس کی حکومت میں ترقی کے دعوؤں کے درمیان سسٹم کےذریعہ نظر انداز کئے جانے کی اس شرمناک تصویر کو دیکھنے پر کئی سوالات کھڑےہوگئے ہیں۔ کیا ہم انسانی بستی میں رہتے ہیں یا پھر واقعی یہ سسٹم سڑ گیا ہے ؟ جس کے سبب ایک بے بس باپ چار پائی پر بیٹی کی لاش کو لے کر پیدل چلنے کو مجبور ہے۔
یہ معاملہ سنگرولی نواس پولیس چوکی حلقہ گڑائی گاؤں کا ہے۔ جہاں ایک 16 سالہ نابالغ نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی تھی۔ اس کی اطلاع لواحقین نے نواس پولیس چوکی میں دی، لیکن پولیس انتظامیہ و دیگر کسی جگہ سے مدد نہ ملنے پر متوفی کے بے بس باب کو بیٹی کی لاش چار پائی پر لے کر پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے 35 کلومیٹر جانے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہاں سے ہی سسٹم کی شرارتیں شروع ہوگئیں۔ متاثرہ شخص کو نہ ہی مردہ گاڑی ملی اور نہ ہی نواس پولیس نے کوئی سنجیدگی دکھائی ۔ آخر کار سسٹم سے ہار کر باپ کو کالجے کے ٹکڑے کی لاش کو چار پائی پر لے کر 35 کلومیٹر تک پیدل جانا پڑا۔
نابالغ کے والد نے کہا ’ کریں تو کیا کریں پولیس نے تعاون نہیں کیا۔ مردہ گاڑی بلانے پر بھی نہیں آئی ۔ اب اس سسٹم سے کتنی دیر تک التجا کرتے اس لئے مجبوری میں پوسٹ مارٹم جیسی کارروائی پوری کرنے کے لیے لاش کو کسی طرح لے کر آگئے۔








