نئی دہلی :(نامہ نگار)
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی ان دنوں اپنے بیانات کے سبب سرخیوں میں ہیں۔ اے بی پی کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو بی جے پی کو ہرائے اس کو جتاؤ کی پالیسی غلط تھی ،کسی کو ہرانے کے لیے اکٹھا ہونا مناسب نہیں، ہمیں اس ذہنیت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔
واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہندبھی کئی دہائیوں سے اسی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے جس کی مسلمانوں کے ایک طبقہ نے ہمیشہ مخالفت کی ۔ مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جن میں بی جے پی کو ہرانے والے امیدواروں کو جتانے کی اپیل کی جاتی رہی ہے ۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو ہر پارٹی میں جانا اور رہنا چاہیے ،آپ نے یہ نہیں کہا کہ بی جے پی میں نہ جائیں بہر کیف’’ روزنامہ خبریں‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے یہ موقف بیان کیا تھا اب اس کا اعادہ کیا ہے۔
اسد الدین اویسی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انٹرویو میں کہا کہ وہ جس ٹون اور لب ولہجہ میں بات کرتے ہیں وہ بالکل مناسب نہیں۔









