نئی دہلی :(ایجنسی)
قطب مینار تنازع کیس میں ہندو فریق کی طرف سے دائر درخواست پر منگل (24-مئی-2022) کو دہلی کی ساکیت عدالت میں سماعت ہوئی ۔ اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ قطب مینار ایک محفوظ یادگار ہے، اس لیے اب وہاں کوئی مذہبی سرگرمی نہیں ہو سکتی۔ دوسری جانب ہندو فریق کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ہری شنکر جین نے کہا کہ ان کے پاس اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ قطب مینار کمپلیکس میں تعمیر کردہ قوۃ الاسلام مسجدکو 27 ہندو اور جین مندروں کو گرا کر بنائی گئی ہے۔
اس کے بعد عدالت نے ہندو فریق سے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں، تو ہندو فریق کی طرف سے کہا گیا کہ وہ مندر میں محدود سطح پر پوجا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہندو فریق کے اس مطالبے پر جج نے کہا کہ وہاں 800 سال سے وہاں پوجا نہیں ہوئی ہے آگے بھی رہنے دیں ۔ اس دوران اچانک سماعت کچھ دیر کے لیے روک دی گئی کیونکہ ایک پولیس اہلکار جج کی سماعت کی آڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔ اس کے بعد ان کا فون ضبط کر لیا گیا اور سماعت کو آگے بڑھایا گیا۔ہندو فریق اور اے ایس آئی کے دلائل سننے کے بعد عدالت میں سماعت مکمل ہو گئی اور 9 جون کو عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔
اے ایس آئی نے عدالت میں داخل اپنے حلف نامہ میں کہا کہ قطب مینار کو 1914 سے ایک محفوظ ورثہ کا درجہ حاصل ہے۔ ایسے میں یادگار میں عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسے محفوظ قرار دیئے جانے کے بعد سے یہاں کبھی عبادت نہیں ہوئی۔
اے ایس آئی نے مزید کہا کہ ہندو فریق کی درخواستیں قانونی طور پر درست نہیں ہیں۔ اے ایس آئی نے کہا کہ پرانے مندر کو گرا کر قطب مینار کمپلیکس کی تعمیر ہوئی تھی یا نہیں یہ تحقیق کا موضوع ہے۔ حلف نامے کے مطابق چونکہ قطب مینار کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ اور یہاں عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آثار قدیمہ قانون 1958 کے محفوظ ورثہ کے مطابق محفوظ یادگار میں صرف سیاحت کی اجازت ہے۔ کسی مذہبی سر گرمی کی اجازت نہیں۔
واضح رہے کہ دہلی کی ساکیت عدالت میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی بحالی اور قطب مینار کمپلیکس کے اندر پوجا کرنے کے حق کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطب مینار کمپلیکس میں ہندو دیوتاؤں کی کئی مورتیاں موجود ہیں۔ ایسے میں انہیں یہاں عبادت کرنے کی اجازت دی جائے۔









