نئی دہلی: (نامہ نگار)
جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ کشمیر میں جو صورت حال پیدا ہورہی ہے وہ تشویشناک ہے مگر اسے کسی صورت فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے اور معاملہ کو انسانی نظریہ سے حل کیا جائے کیونکہ بعض طاقتیں ایسا کرنا چاہتی ہیں۔
جماعت کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر قانون سے بالاتر ہوکر بلڈوزرکلچر کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ماورائے عدالت اپنی مرضی سے فیصلے صادر کرنے کے رجحان کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کرنا بہت خطرناک ہے۔
بھاگوت کے بیان کو غیر اہم بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں بہت تضادات ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بہت حساس ہے اور اس کے قصورواروں کو قانون کے مطابق سزادی جائے ۔سرکارکو نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، مذہبی جذبات بھڑکانے کی کوشش ناقابل قبول ہے ۔
اے دن مسجدوں میں شیولنگ ہونے کا دعویٰ اور گیان واپی سے متعلق جو کچھ ہورہا ہے وہ عبادت تحفظ ایکٹ1991کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس پرمرکزی حکومت کی خاموشی کو افسوسناک بتایا۔نائب امیر جماعت نے ہونے والے بیانات میں اضافہ پر بھی سخت تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی مقبولیت کے لیے نفرت ہتھیار بن گئی ہے یہ ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے بہت خطرناک ہے۔
جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سخت اعتراض کیا جس میں قحبہ گری کو قانونی جواز فراہم کیا ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ یہ معاشرہ کے لیے تباہ کن ہے اس کے خلاف سخت قانون بنایا جاے۔
کانپور معاملہ میں پی ایف آئی کا ہاتھ ہونے کے الزام پرا نہوں نے کہا کہ کسی کے کہہ دینے سے کیا ہوتا ۔ہے سرکار تفتیش کرے اور پتہ کرے لیکن فساد کون کراتا ہے اور کس کو فائدہ ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں ۔
ایک گھنٹے تک چلی پریس کانفرنس میں جماعت کے قومی امور کے سکریٹری محمد احمد اور میڈیا اسسٹنٹ سکریٹری عبدالخلیق بھی موجود تھے۔









