لکھنؤ :(ایجنسی)
نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے بیان کو لے کر آج اتر پردیش میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ جمعہ کی نماز کے بعد یوپی کے چھ شہروں میں لوگوں نے نعرے لگائے اور پتھراؤ کیا۔ اس واقعہ کے بعد یوگی حکومت سخت نظر آرہی ہے۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی رہائش گاہ پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ اس دوران انہوں نے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں اب تک 136 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں سہارنپور کے 45، پریاگ راج کے 37، ہاتھرس سے 20، مرادآباد سے 7، فیروز آباد سے 4 اور امبیڈکر نگر کے 23 لوگ شامل ہیں۔
ایس سی ایس ہوم ڈپارٹمنٹ اونیش اوستھی نے کہا کہ سہارنپور میں نماز کے بعد جمع ہوئے لوگوں کو منانے کے بعد منتشر کیا گیا ۔ دوسرے شہروں میں امن قائم ہو گیا۔ امن کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف پولیس سخت کارروائی کرے گی۔ ہم لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) اونیش اوستھی نے لکھنؤ میں کہا، ’تشدد میں ملوث افراد کو روکنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ پریاگ راج میں حالات پرامن ہیں۔ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد کا سہارا لیے بغیر جمہوری طریقے سے احتجاج کریں۔‘
ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (امن و امان) پرشانت کمار نے کہا کہ تمام سرکاری، نجی املاک جن کو نقصان پہنچایا گیا ہے ان کو بھی بازیافت کیا جائے گا اور گینگسٹر ایکٹ کے تحت ان کی جائیدادوں کو بھی ضبط کرلیا جائے گا۔
اتر پردیش کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈی ایس چوہان نے دعویٰ کیا، ’ریاست میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ ہم تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ چوہان نے کہا، ’ہماری اتحادی ریپڈ ایکشن فورس (RAAF) کے ایک جوان کے چہرے پر پتھر مارا گیا ہے اور اس کا علاج چل رہا ہے۔ وہ خطرے سے باہر ہے۔‘









