نئی دہلی :(ایجنسی)
گیان واپی مسجد تنازع بڑھتا جا رہا ہے اور پیر سے وارانسی کی عدالت میں بھی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ کو 8 ہفتوں میں سماعت مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گیان واپی مسجد کو لے کر رہنماؤں اور مذہبی رہنماؤں کے بیانات بھی آنے لگے ہیں۔ کئی رہنما اور مذہبی رہنما متنازع بیانات دے چکے ہیں۔ وہیں اب مودی حکومت کے ایک وزیر نے بھی متنازع بیان دیا ہے۔
مودی حکومت میں وزیر مملکت بھانو پرتاپ سنگھ ورما نے کہا ہے کہ اقلیتی بندھو بھائی جہاں دیکھتے ہیں، وہیں ہرا کپڑا ڈال دیت ہیں اور پھر مسجد بنالیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو کہہ نہیں سکتے لیکن یہ اقلیتی بھائی ہیں، یہ جہاں بھی کوئی جگہ دیکھتے ہیں ہرا کپڑا ڈال دیتے ہیں اور پھر اس جگہ مسجدپر بنا دی جاتی ہے۔ ہم ایسا کبھی نہیں کرتے۔
بھانو پرتاپ ورما نے مزید کہا کہ جہاں ہندوؤں کے عقیدے کے مراکز ہیں وہاں مسجد کیوں بنائی گئی؟ دوسری جگہ ہے اور یہ سب چیزیں وہاں ہو سکتی تھیں۔ آج یہ تنازع کھڑا ہو رہا ہے۔ جہاںہمارے ہندو معاشرے کے دیوتا ہیں، وہاں مسجد کیوں بنائی گئی؟ آج سرو سماج اس مسئلے کو اٹھا رہا ہے اور بڑی تیزی سے کہہ رہا ہے کہ یہ ہمارا مندر تھا اور ہمیں ملنا چاہیے۔ لیکن اب یہ عدالت کا معاملہ ہے اور ہم عدالت کے فیصلے کی پابندی کریں گے۔
بتادیں کہ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے کچھ دن پہلے کہا تھا، ’ہمارے مذہب میں یہ ہے کہ کہیں بھی پتھر رکھو، پیپل کے درخت کے نیچے لال جھنڈا لگاؤ اور مندر بن گیا ۔ ایک وقت تھا جب ایودھیا میں رات کے وقت مورتیاں رکھی جاتی تھیں۔ بی جے پی کچھ بھی کر سکتی ہے۔ بی جے پی نفرت کی سیاست کرتی ہے۔
دوسری جانب اتحاد ملت کونسل (آئی ایم سی) کے صدر مولانا توقیر رضا نے مسلمانوں سے جیل بھرو آندولن کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ ہندوستان کے ہر ضلع میں تقریباً 2 لاکھ مسلمان جمع ہوں اور جیل بھرو آندولن شروع کریں۔









