نئی دہلی:پارلیمانی رکنیت منسوخ ہونے کے بعدپہلی بار راہل گاندھی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ بی جے پی اور پی ایم پر تیز وتند لہجہ میں تنقید کی انہوں نے کہا جمہوریت پر ہر روز حملہ ہو رہا ہے اور اس کی ہر روز نئی مثال سامنے آ رہی ہے۔ میں نے ایک ہی سوال پوچھا تھا کہ اڈانی کی فرضی کمپنیوں میں کس نے 20 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ میں نے یہ پارلیمنٹ میں ثبوت کے ساتھ وزیر اعظم مودی اور اڈانی کے تعلق پر سوال پوچھا تھا۔ میں نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ وزیر اعظم مودی اور اڈانی کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے انہیں ثبوت بھی دیئے۔ میں نے مودی اور اڈانی کی ہوائی جہاز کی تصویر پارلیمنٹ میں دکھائی۔ اس کے بعد میری تقریر کو حذف کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا ’’ میں نے اس کے بعد اسمبلی اسپیکر کو خط لکھا اور بتایا کہ اڈانی کو ضوابط بدل کر ایئرپورٹ فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میرے بارے میں وزرا نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا کہ میں نے بیرونی قوتوں سے مدد مانگی ہے۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔
راہل گاندھی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کر کے مجھے ڈرایا نہیں جا سکتا اور میں سوال پوچھتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا ’’سوال پوچھنا میں بند نہیں کروں گا۔ نریندر مودی کا اڈانی کے ساتھ کیا رشتہ ہے اور 20 ہزار کروڑ روپے کس کے ہیں میں یہ پوچھتا رہوں گا، مجھے کسی سے ڈر نہیں لگتا۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے نااہل قرار دے کر، دھمکا کر، جیل میں ڈال کر میری آواز بند کر سکتے ہیں تو ایسا نہیں ہوگا۔ میں ہندوستان کی جمہوریت کے لئے لڑ رہا ہوں اور لڑتا رہوں گا۔‘‘








