امریکیوں کی نظریں امریکی ریاست نیویارک کی طرف لگی ہوئی ہیں، جہاں چند ہی گھنٹوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو رہا ہے۔ نیویارک کی پولیس نے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر مکمل ہائی الرٹ کر دیا
سابق امریکی صدر پر 34 مختلف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جن کا انہیں عدالت میں سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سے اہم پورن اسٹار سٹورمی ڈینیئلز کی خاموشی خریدنے کے لیے 2016 کے انتخابات کے دوران ادائیگیوں سے متعلق الزام بھی شامل ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس کا ٹرمپ کے ساتھ 2006 میں مختصر تعلق رہا تھا۔توقع ہے کہ ٹرمپ آج کمرہ عدالت میں بغیر ہتھکڑی لگائے داخل ہوں گے، یا روایتی تصویر نہیں کھنچوائیں گے جو عدالت عام طور پر مدعا علیہان کے لیے لیتی ہے، تاکہ اسے ان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے اور تصویر کے ذریعے تشدد پر اکسایا جائے۔
نہ ہی انہیں کمرہ عدالت میں جانے سے پہلے کسی سیل میں رکھا جائے گا جہاں وہ جج کا سامنا کرے گا۔ اگرچہ ملزم کو سیل میں رکھنا ایک معمول کی بات ہے مگر ٹرمپ اس سے مستثنیٰ ہوں گے
سابق امریکی صدر کے کیس کے سیاق و سباق میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے وضاحت کی کہ مدعا علیہان کو ہتھکڑی لگانے کی وجہ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ وہ فرار ہونے کی صورت میں خطرہ بن سکتے ہیں، یا پبلک پراسیکیوٹر یا عدالتی عملے کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں، مگر ٹرمپ سے ایسا کوئی خطرہ نہیں۔
اگرچہ سابق صدر کے خلاف نیویارک اسٹیٹ میں کاروباری ریکارڈ کو غلط ثابت کرنے پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے تمام الزامات کو کلاس E کے جرم میں ڈال دیا۔
یہ بھی واضح ہو گیا کہ سابق صدر کو دیگر مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں تجارتی ریکارڈ میں جعلسازی بھی شامل ہے۔۔
نیو یارک اسٹیٹ پینل کوڈ کے تحت کاروباری ریکارڈ کو غلط ثابت کرنے کی کلاس E کے جرم کی سزا 4 سال تک قید ہو سکتی ہے۔








