لکھنؤ :(ایجنسی)
آنے والا جمعہ ایک بار پھر پولیس کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ اس بار پولیس بھی پوری تیاری کر رہی ہے۔ کسی بھی صورت میں ماحول خراب نہیں ہونے دینے کا دعویٰ کیاجا رہا ہے ۔ اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
دراصل گزشتہ دو جمعہ کو ریاست کے مختلف اضلاع میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ کانپور، پریاگ راج اور سہارنپور میں نماز جمعہ کے بعد شرپسندوں نے ہنگامہ کیا تھا۔ ایسے میں آنے والا جمعہ ایک بار پھر پولیس کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ ڈی جی پی ہیڈکوارٹر کی طرف سے ایسے لوگوں کی پہلے سے شناخت کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی ہنگامہ کھڑا کرتا ہے تو اس کی ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی بھی کروائی جائے گی تاکہ ایسے انتشار پھیلانے والوں کو پہچاننے میں آسانی ہو۔
امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ امن و سکون میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کے پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذہبی رہنماؤں سے بات کریں اور کسی بھی مظاہرے کی اجازت نہ دی جائے۔ خاص طور پر مغربی اتر پردیش کے اضلاع میں خصوصی چوکسی برتنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو چوکسی کی ہدایات پہلے ہی دی گئی تھیں، لیکن کچھ افسران نے اسے ہلکے میں لیا، جس کی وجہ سے نو اضلاع میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس کے بعد این ایس اے اور گینگسٹر ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی گئی ہے۔
پرشانت کمار نے کہا کہ کل 13 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور اب تک نو اضلاع میں 333 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جہاں جمعہ کو ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس میں سب سے زیادہ گرفتاریاں پریاگ راج میں ہوئی ہیں جہاں تین معاملے درج کیے گئے ہیں اور اب تک 92 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سہارنپور میں تین معاملے درج کیے گئے ہیں اور اب تک 81 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہاتھرس میں 51، امبیڈکر نگر میں 41، مراد آباد میں 40، فیروز آباد میں 17، علی گڑھ میں چھ اور جالون میں پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لکھیم پور کھیری ضلع میں بھی ایک کیس درج کیا گیا ہے، جس میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔









