اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تبدیلیٔ مذہب جرم نہیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات
A A
0
تبدیلیٔ مذہب جرم نہیں
30
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ہندوستان میں اسلاموفوبیا کے شکار لوگ آئے دن کوئی نہ کوئی ایسا پروپیگنڈا کرنے میں لگ جاتے ہیں جس سے مسلمانوں کی بدنامی ہو اور سماج میں ان کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو ۔ حکومت ایسے واقعات کو ہوا دیتی ہے اور اس کی شہ پر گودی میڈیا اتنا شور شرابہ برپا کرتا ہے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ، حالاں کہ ان واقعات کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔

ڈاکٹر عمر گوتم اور ان کے معاون مفتی جہاں گیر قاسمی کے معاملے میں ایسا ہی ہوا ہے ۔ ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا ، جو پہلے ہندو تھا ، بعد میں اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ دورانِ تفتیش اس نے بتایا کہ قبولِ اسلام کے بعد کاغذات کی تیاری میں اس نے عمر گوتم صاحب سے مدد لی تھی ۔ بس پھر کیا تھا؟ یوپی ATS حرکت میں آگئی ۔ اس نے تفتیش کے نام پر ڈاکٹر عمر گوتم کو کئی بار بلایا ۔ پھر انھیں اور ان کے معاون کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرکے جوڈیشیل کسٹڈی میں بھیج دیا ۔ بعد میں اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادتّیہ ناتھ ، جو اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کے معاملے میں شہرت رکھتے ہیں ، ان کے حکم پر این ایس اے اور گینگسٹر ایکٹ کی دفعات بھی شامل کردی گئیں ۔ یوپی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حضرات کافی عرصے سے غریب افراد کو پیسے ، نوکری اور شادی کا لالچ دے کر مسلمان بنا رہے تھے ۔ انھوں نے بہت سی ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروا کے ان کی شادی مسلمان لڑکوں سے کروائی ہے ۔ اس کام کے لیے یہ حضرات مختلف ممالک سے خطیر فنڈز جمع کرتے تھے ، وغیرہ ۔

الزامات لگانے میں میڈیا کیوں پیچھے رہتا؟ اس نے ان حضرات کو ویلن بنا کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی _ ان کی رپورٹنگس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات ملک کے خلاف کوئی بڑی سازش رَچ رہے تھے ، اس لیے بغاوت کے مجرم ہیں ۔ جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کی حقیقت تو عدلیہ کے فیصلے کے بعد کھل کر سامنے آئے گی ، لیکن اب تک کی دست یاب معلومات سے ان تمام الزامات کی تردید ہوتی ہے ۔ ان حضرات نے جن لوگوں کو قبولِ اسلام کے معاملے میں قانونی رہ نمائی فراہم کی ہے ان میں سے ایک بھی ایسا فرد اب تک سامنے نہیں آیا ہے جس نے کہا ہو کہ اس سے زبردستی اسلام قبول کروایا گیا تھا ، یا اس کے لیے کوئی لالچ دیا گیا تھا ۔

ڈاکٹر عمر گوتم کی پیدائش اتر پردیش کے ضلع فتح پور میں ٹھاکر گھرانے میں ہوئی تھی ۔ انھوں نے 1984 میں بیس (20) برس کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا ۔ ایک ویڈیو میں انھوں نے اپنے قبول اسلام کی کہانی بیان کی ہے ، جس کے مطابق ایک مرتبہ وہ بیمار ہوئے تو ان کے ایک مسلمان دوست نے ان کی خوب تیمارداری کی ۔ بیماری سے شفا یاب ہوئے تو انھوں نے اپنے دوست سے اس کی وجہ دریافت کی ۔ اس نے جواب دیا کہ اس کا مذہب اسے اس کا حکم دیتا ہے ۔ اس چیز نے انھیں اسلام کا مطالعہ کرنے کی طرف مائل کیا ۔ بالآخر اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر وہ مشرّف بہ اسلام ہوگئے ۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام کی دعوت و تبلیغ کو اپنا مشن بنا لیا۔ 2010ء میں انھوں نے’اسلامی دعوہ سینٹر‘ کی بنیاد ڈالی ۔ اس کا مقصد ان لوگوں کی رہ نمائی کرنا تھا جو اسلام قبول کرنے بعد قانونی مدد حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ وہ تبدیلئ مذہب کی دستاویزات تیار کروانے میں ان کا تعاون کرتے تھے ۔

رائے ، عقیدہ اور مذہب کی آزادی کو جدید دنیا میں بنیادی انسانی قدر تسلیم کیا گیا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے منشورِ انسانی حقوق میں اس کا ذکر ہے ۔ دنیا کے تمام ممالک نے اپنے دستوروں میں اسے شامل کیا ہے ۔ اسی طرح دستورِ ہند میں بھی اس کی صراحت موجود ہے۔ اس کی دفعہ 25 میں ملک کے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کا حق دیا گیا ہے ۔ البتہ زور زبردستی سے ، ڈرا دھمکا کر ، یا لالچ دے کر کسی کا مذہب تبدیل کرانا قابلِ تعزیر جرم ہے ۔ اسی بنیاد پر ملک کی مختلف ریاستوں میں تبدیلئ مذہب مخالف قوانین بنائے گئے ہیں ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اِن قوانین کے ذریعہ تبدیلئ مذہب پر مکمل پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب کوئی شخص اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرتا ہے ۔ اس وقت اسے اور جو شخص اس کی اخلاقی اور قانونی مدد کرتا ہے اسے ڈرایا دھمکایا اور مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ کوئی شخص اپنا سابق مذہب تبدیل کرنے کے بارے میں نہ سوچ سکے اور کوئی دوسرا اسے اسلام قبول کرنے کی ترغیب نہ دے سکے اور قبولِ اسلام کے بعد اسے اخلاقی اور قانونی مدد نہ پہنچا سکے ۔

اسلام ایک مشنری مذہب ہے ۔ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنے کے بعد انھیں زندگی گزارنے کا طریقہ بھی بتایا ہے ۔ اس نے دنیا میں اپنے برگزیدہ بندے بھیجے ، تاکہ وہ لوگوں کے سامنے حق واضح کر سکیں ۔ انھیں رسول ، نبی یا پیغمبر کہا جاتا ہے ۔ یہ ہر زمانے اور ہر قوم میں آئے اور انھوں نے اللہ کے بندوں تک اس کا پیغام پہنچایا ۔ لیکن بعد میں لوگوں نے ان الٰہی تعلیمات میں تحریف کر ڈالیں ۔ اس طرح نت نئے مذاہب وجود میں آئے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں پائے جانے والے تمام مذاہب برحق ہیں ، سب ایک ہی منزل تک پہنچانے والے ہیں ۔ اسلام اس نظریے کا رد کر تا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ صرف وہی مذہب برحق ہے جو اللہ کے پیغمبروں کے ذریعہ انسانوں تک پہنچا ہے اور جسے سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر مذاہب سیدھے راستے سے ہٹنے کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی اسلام عقیدہ و مذہب کو اختیار کرنے کے معاملے میں انسانوں کو آزادی دیتا ہے ۔ وہ انھیں حق دیتا ہے کہ اپنی عقل و فہم کو استعمال کریں ۔ صحیح اور غلط ، کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز کریں اور اپنے لیے جو عقیدہ اور جو مذہب پسند کریں اسے اختیار کر لیں ۔ قبولِ مذہب کے معاملے میں وہ کسی جبر کا قائل نہیں ہے ۔ قرآن مجید میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے : ” مذہب کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے ۔“ (البقرۃ: 256) اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرماتا ہے : ”تمہارا کام بس پیغام پہنچا دینا ہے۔ ان سے حساب لینا ہمارا کام ہے۔“ (الرعد: 40) ”تم ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔“ (الغاشیہ:22) مذہب کے معاملے میں زور زبردستی کو بالکلیہ رَد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مخاطب کرکے فرمایا ہے :”اگر تیرے رب کی مشیّت یہ ہوتی(کہ زمین میں سب مومن اور فرماں بردار ہی ہوں) تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے ۔ پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟“ (یونس: 99)

اسلام کی اس تعلیم کی بنا پر کوئی مسلمان کسی شخص کا مذہب زور زبردستی ، خوف یا لالچ کے ذریعہ تبدیل کرنے کو سوچ بھی سکتا ۔ وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ جو مذہب اس کی نظر میں حق ہے اسے دوسروں تک پہنچائے اور ان کے سامنے اس کی تعلیمات بیان کرے ۔ اس طرح وہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو جاتا ہے ۔ پھر انھیں اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہیں تو اسے قبول کریں اور چاہیں تو رد کریں ۔ اسلام میں زور زبردستی یوں بھی قابلِ قبول نہیں کہ اس کی بنیاد اخلاص پر استوار کی گئی ہے ۔ کوئی شخص بہ ظاہر اسلام قبول کرلے ، لیکن وہ اس کے دل میں راسخ نہ ہوا ہو تو حقیقت میں اس کا اسلام معتبر نہیں ۔ اسے ’منافق‘ کہا گیا ہے اور اس کی سزا جہنم قرار دی گئی ہے ۔ کسی مسلمان کے نزدیک یہ کوئی دانش مندانہ کام نہ ہوگا کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کرے جو سچے دل سے اس پر ایمان نہ لائے ہوں ۔

دنیا میں حق اور باطل کی کش مکش روزِ ازل سے ہے ۔ باطل پرستوں نے حق کو دبانے کے لیے ہر جتن کیے ہیں ۔ انھوں نے اہلِ حق پر جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور انھیں ان کے مشن سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ لیکن اہلِ حق نے کبھی پسپائی اختیار نہیں کی ہے ۔ انھیں ستایا گیا ، طرح طرح کی اذیّتیں دی گئیں ، قید و بند میں رکھا گیا ، جان و مال کے نقصان سے دوچار کیا گیا ، لیکن وہ تمام آزمائشوں میں سرخ روٗ ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت آج بھی جاری ہے ۔ اہلِ حق کو آج بھی آزمائشوں میں ڈالا جا رہا ہے ۔ لیکن ان کے لیے خوش خبری ہے کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جانب سے اعزاز و کرام سے بہرہ ور ہوں گے ۔

[ شائع شدہ : ہفت روزہ دعوت، نئی دہلی، 11 _ 17 جولائی 2021 ]

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

مذہبیات

جب مسجد اور تعلیمی ادارے کے درمیان جھگڑے کی تاریکی چھٹی

22 اگست
مذہبیات

ڈپریشن :قرآنی علاج

09 جولائی
مذہبیات

_یہودی قیادت سے معزول__

20 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN