اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

رام نام کی سیاست کرنے والوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات
A A
0
رام نام کی سیاست کرنے والوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں
51
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ۔دہلی

جب سے ملک میں زعفرانی فاشزم کی حکومت آئی ہے تب سے عوام کی فلاح و بہبود اورغربت و جہالت کے ازالے کے سارے پروگرام ٹھنڈے بستے میں چلے گئے ہیں۔کہنے کو تو ملک 5جی کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے۔شہروں کی گلیوں میں وائی فائی کے ٹاور لگ گئے ہیں،مگر ملک کے باشندوں کی اکثریت دو وقت کی روزی روٹی کے لیے پریشان ہے۔گزشتہ سات سال میں کروڑوں نوجوان بے روزگار ہوگئے ہیں۔نوٹ بندی کے بعد سے بازار اپنے معمول پر نہیں آئے ہیں۔پرائیوٹ سیکٹر میں ملازمین کی تعداد میں کمی کیے جانے اورسرکاری اداروں کو نجی ہاتھوں میں دیے جانے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر تعلیم و صحت سے متعلق تمام اشیاء کے دام روز بڑھ رہے ہیں۔اگر یہی صورت حال رہی تو ایک بڑی آبادی رہزنی کا راستا اپنائے گی یا خود کشی کرلے گی۔

مہنگائی کی قیامت خیزی کے باوجود اہل ملک میں کوئی بے چینی نظر نہیں آرہی ہے۔کسی بیوپاری سنگٹھن کی طرف سے بازار بند کا نعرہ نہیں دیا جارہا ہے،کوئی ٹریڈ یونین ہڑتال کا اعلان نہیں کررہی ہے،لال جھنڈے والے بھی نہ جانے کہاں چلے گئے جو غریبوں کی مسیحائی کا دم بھرتے تھے۔ سیاسی جماعتوںکو زعفرانیوں نے اپنی مکارانہ سیاست سے دفاعی پوزیشن پر کھڑا کردیا ہے۔اپوزیشن کو اپنے خیمے بچانے بھاری پڑ رہے ہیں وہ غریبوں کی کٹیا کیسے بچائیں گے۔مذہبی قیادت اللہ ھو اور رام نام جپنے میں مست ہے ،اس لیے کہ ان کے عقیدت مند وں کی جانب سے نذرو نیاز اور چڑھاوے مسلسل پیش کیے جارہے ہیں،پھر بے چارے اللہ والوں کو دنیاداری سے کیا مطلب؟کوئی بھوک اور افلاس سے مرتا ہوتو مرے انھیں تو مرنے والا بھی فاتحہ اور کرم کانڈ کے نام پر کچھ دے کر ہی جاتا ہے۔نہیں معلوم ہمارے معاشرے سے انسانی محبت کی اعلیٰ قدریں کہاں گم ہوگئیں؟وہ جرأت مندی کہاں چلی گئی جو مہنگائی کے آسمان پر جانے سے پہلے آسمان سر پر اٹھا لیتی تھی؟

ہم صرف پیٹرول ڈیزل کا رونا رورہے ہیں،کیوں کہ اس کے دام کی خبر اخبارات میں آجاتی ہے ،مگر سرسوں کی تیل کی خبر اخبار کا عنوان شاذ و نادر ہی بنتی ہے۔2014میں پیٹرول کی قیمت 70روپے لیٹر تھی جو اب ایک سو روپے ہے لیکن سرسوں کا تیل اس وقت 65روپے لیٹر تھا جو آج210روپے لیٹر ہے۔سیمنٹ کی بوری 2014میں 195روپے کی ملتی تھی اب 410روپے میں دستیاب ہے۔اسٹیل کا ریٹ 3600روپے کنتل تھا آج 6500روپے ہے۔ریت کی پوری ٹرالی 1500روپے میں مل جاتی تھی آج چار گنا قیمت دینا پڑتی ہے۔350روپے کا گیس سلینڈر آج 900روپے کا ہوگیا ہے۔دالیں جو 40یا 50روپے کلو تھیں آج 150روپے سے 180تک پہنچ گئی ہیں۔ہر طرح کی سرکاری فیس میں اضافہ ہوگیا ہے،ڈرائیونگ لائسنس جو 2014میں صرف 250میں بن جاتا تھا اس وقت 5500روپے سرکاری فیس دینا پڑتی ہے،زمینوں کی قیمتیں بھی بڑھیں اور رجسٹری کا خرچ بھی ۔2014میں 27کروڑ خاندان خط افلاس سے نیچے تھے آج 35کروڑ ہیں۔2014میں ملک ڈھائی لاکھ کروڑ کا مقروض تھا آج 25لاکھ کروڑ کا مقروض ہے۔اس کے باوجود ہم سورہے ہیں،کہنے کو توہماری ملی اور سماجی تنظیموںکی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے مگرعوام کی مشکلات پر ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے ۔حکومتیں جو غربت کو دور کرنے کے نام پر اپنا انتخابی منشور جاری کرتی ہیں وہ غریبوں کو ہی مٹانے کا منصوبہ بنا نے لگتی ہیں۔دہلی کی حکومت بڑے زور و شور سے اعلان کرتی ہے کہ اس نے عوام کو مفت بجلی پانی دے رہی ہے ،اس نے کورونا کے زمانے میں دس لاکھ افراد کو دونوں وقت کھانا دیا ہے ، کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس نے دہلی کے عوام کو بھکاری بنا دیا ہے۔غریبی ختم کرنے کے بجائے غریبوں کی تعداد میں اضافہ کیاہے۔دوسری طرف مرکزی حکومت جس نے وعدہ کیا تھا کہ کرپشن کو دور کرے گی ،کالا دھن واپس لائے گی،ہر سال ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکری دے گی،خوش حال بھارت بنائے گی،ہرت کرانتی لائے گی،آتم نربھرتا پیدا کرے گی،ملک کو وشو گرو بنائے گی ،اس کے یہ وعدے محض جملے ثابت ہوئے۔اسے مسلم مہیلائوں کی فکر ستائی اور طلاق بل لائی،اس نے شروع سے ہی مذہبی فرقہ پرستی کا راگ الاپا اور آخر کار رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا،کشمیریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے جسم کے ٹکڑے کردیے۔گائے کے نام پر لنچنگ کو ہوا دی،ہر وقت اور ہر جگہ ہندو مسلم کی سیاست کی۔کیا یہی دیش بھکتی ہے ؟

ملک کی کئی ریاستوں میں آئندہ سال چنائو ہونے والے ہیں۔ہر چنائو کو بی جے پی کمیونل بنا دیتی ہے ،میری رائے ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہوکر عوام کے سامنے حقیقی مسائل رکھنا چاہئے۔اس وقت مہنگائی عروج پر ہے ،یہ صحیح وقت ہے اگر ہماری سیاسی اور سماجی جماعتیں مہنگائی کے خلاف آواز بلند کریں،احتجاج کریں،سڑکوں پر آئیں ،جیل بھرو آندولن کی تحریک چلائیں،عدم تعاون اور ستیہ گرہ کا اعلان کریں۔کیا گاندھی جی کا نام استعمال کرنے والے گاندھی جی کا کردار فراموش کرچکے ہیں،کیا رام منوہر لوہیا کی تصویر لگانے والے ان کے سماجی آندولن کو بھول چکے ہیں۔کیا جمہوریت میں عوام کے مسائل اٹھانا،آئین کے دائرے میں رہ کر حکومت پر تنقید کرنا،اس کو متوجہ کرنا بھی جرم ہے؟زباں بندی کا یہ ماحول ہماری بے حسی کا منھ بولتا ثبوت ہے ۔ہم میں سے ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہے۔تعلقات اور رشتے بھی سوشل میڈیا پر نبھائے جارہے ہیں۔ہمیں اس دنیا سے باہر آنا ہوگا۔بھوک ،افلاس اور مہنگائی کی مار جھیل رہی انسانیت کے درد کو سمجھنا ہوگا۔

ملک میںمہنگائی کا ناگ ڈس رہا ہے اور زعفرانی حکومتیں مذہبی فرقہ پرستی میں لگی ہیں۔کبھی آبادی کنٹرول کے نام پربل لایا جارہا ہے،کبھی تبدیلی مذہب کے خلاف قانون بنایا جارہے،سیاست داں تو سیاست داں رہے مجھے حیرت ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے قابل جج صاحبان کو بھی آئین میں درج یکساں سول کوڈ ہی یاد ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحت ان کی مذہبی آزادی یاد نہیں؟کیا بھارت کا سب سے بڑامسئلہ یکساں سول کوڈ ہے ،غربت،جہالت،فاقہ کشی،لنچنگ اور مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں۔ معز ز عدالت نے یکساں سول کوڈ کا نیا شگوفہ چھوڑ کر حکومت کو ’نیا سیاسی ٹول فراہم ‘کردیا ہے جس کے ذریعے عوام کی توجہ آسانی سے بنیادی مسائل سے ہٹائی جاسکتی ہے۔عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ ہمیں کورونا سے مرنے والے کم و بیش دس لاکھ افراد کے اہل خاندان کے مسائل بھی دیکھنا چاہئے۔جس میں تقریباً50لاکھ افراد بے سہارا ہوئے ہیں۔آنے والی تیسری لہر کی تیاریوں کا جائزہ بھی لینا چاہئے۔ غریبوں کے ٹھنڈے ہوتے چولہوں پر بھی نظر رکھنا چاہئے اور انھیںبھیک نہیں ان کا حق دیناچاہئے۔ ایک جمہوری فلاحی ریاست کی اصل ذمہ داری شہریوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے۔ مذہبی آزادی،ملک کی سا لمیت، ایکتاکا تحفظ،افلاس کا ازالہ ا ور خوش حال بھارت کی تعمیر ہماری اولین ترجیح اور حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔

مہنگائی یار چھونے لگی ہے اب آسماں
دلی کے تخت پر کسے بیٹھا دیا گیا

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

مذہبیات

جب مسجد اور تعلیمی ادارے کے درمیان جھگڑے کی تاریکی چھٹی

22 اگست
مذہبیات

ڈپریشن :قرآنی علاج

09 جولائی
مذہبیات

_یہودی قیادت سے معزول__

20 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN